خطبات محمود (جلد 9) — Page 274
274 باقی مطالب پر انشاء اللہ تعالٰی بحث کروں گا۔اب غور کرنا چاہو مولوی موجود تھے۔عالم موجود تھے۔پیر موجود تھے۔مگر کچھ نہ کر سکے۔مولوی سینکڑوں سالوں سے چلے آتے ہیں لیکن شرک کا مقابلہ کرنے سے وہ عاجز رہے اور یہی حال اب بھی ہے۔اگر اس زمانہ کے بگڑے ہوئے مولوی یہ کام کر سکتے تھے۔تو تین چار سو سال سے توحید جو دھکے کھا رہی تھی۔کیوں نہ اسے قائم کر سکے۔ہر طرف سے توحید پر حملے ہو رہے تھے۔عیسائی اور ہندوؤں جیسی مشرک قومیں ان کے سامنے یہ کچھ کر رہی تھیں۔اور ہر طرز پر حملے کر رہی تھیں لیکن یہ دیکھتے تھے اور کچھ نہ کرتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ کچھ کر بھی نہ سکتے تھے۔کیا ان باتوں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کی ضرورت تھی کہ کوئی اور شخص آئے۔جو خدا سے الہام پا کر اس حقیقت کو بیان کرے۔پس حضرت مسیح موعود نے آکر یہ سب کچھ بتایا اور توحید کو پورے طور پر بیان کیا۔جو کام مولوی اتنے عرصہ سے نہ کر سکے۔اسے مسیح موعود نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر دکھایا اور یقیناً وہ کامیاب بھی ہو گئے۔یہ سب کچھ نظر آسکتا ہے۔بشرطیکہ کوئی آنکھ کھولے اور اس کے دیکھنے کی کوشش کرے۔خدا تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم شرک سے بچیں اور اس توحید کے عامل ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے اور جو آج سے تیرہ سو سال پہلے قرآن کریم نے بتائی اور آنحضرت ا نے دنیا کے سامنے پیش کی اور اس تعلیم پر چلنے کی ہمت عطا فرمائے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی۔اور اس بات کی بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اس کو صحیح معنوں میں دنیا میں پھیلانے والے بہنیں۔(آمین) (الفضل ۳ اکتوبر ۱۹۲۵ء)