خطبات محمود (جلد 9) — Page 225
225 یہاں بھی کوئی شخص یہ کہہ کے کہ دفتر بند ہو گئے ہیں یا میں اتنی دیر کام کر چکا ہوں یا آج چھٹی ہے۔اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔ہم پر روح کا بھی حق ہے۔جسم کا بھی حق ہے۔ہمسایہ کا بھی حق ہے اور اور بھی حق ہیں۔لیکن جس وقت دو حق جمع ہو جائیں تو جسم کا حق باقی نہیں رہتا۔روزہ کا بھی حق ہے۔نماز کا بھی حق ہے۔لیکن جب جہاد کا حکم ہو جائے اور جہاد کا حق سامنے آجائے تو جہاد کے متعلق ہمارے جسم کا کوئی حصہ نہیں رہ جاتا۔جو اس حق کو ادا نہ کرے اور ایسے وقت میں جسم کا حق قربان کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ حج نماز روزہ کے حق کا تعلق جسم اور جماعت پر نہیں پڑ سکتا۔لیکن جہاد کے حق کا اثر پڑتا ہے۔مثلاً حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص روز روزہ رکھتا ہے۔اس کے لئے دوزخ ہے اور جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں اس کا مقام ہے۔جو خطرناک جگہ ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا کہ جو میدان قتال سے جان بچاتا ہے۔وہ جہنم میں جائے گا۔تو بظا ہر یہ تضاد ہے ایک جگہ جان کا بچانا اور دوسری جگہ جان کا گنوانا دوزخ کا موجب ہو جاتا ہے۔لیکن یہ تضاد نہیں۔اس لئے کہ یہاں جسم کے حق کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اسے محفوظ رکھا جائے۔لیکن دوسری جگہ جہاد کے حق کا ذکر ہے کہ اس سے جان بچانا گناہ ہے۔کیونکہ اس کا اثر جماعت تک پہنچتا ہے۔اس لئے اس سے جان بچانے والے کی سزا جہنم ٹھرائی ہے اور پھر جہاد کرنے والے کو شریعت یہ نہیں کہتی کہ یہ مجرم ہے لیکن کسی دوسرے موقع پر قتل کر کے اگر کوئی بھاگتا ہے تو وہ مجرم ہے۔پس ہمارا کام سپاہیانہ طرز کا ہے۔اس میں کوئی عذر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔جو کام ہو اسے بہر حال کرنا چاہیے اور اس سادگی سے کرنا چاہیے کہ اس پر تصنع کا ہر گز رنگ نہ آئے۔بعض دفعہ یہ عذر کر دیا جاتا ہے۔کہ کام زیادہ ہے اور آدمی تھوڑے ہیں۔مگر ذرا اخلاص اگر پیدا کر لیا جائے تو روزانہ بیسیوں خط لکھے جا سکتے ہیں۔صرف انگریزی طرز کی تقلید نہ کرنی چاہیے۔یہاں مسجدوں میں نمازوں کی انتظار میں کتنا کتنا عرصہ لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔اس انتظار کے وقت اگر مسجد میں آنے والے دوستوں سے خطوط لکھنے کے لئے کہا جائے تو بہت سے خط لکھے جا سکتے ہیں اور اس طرح کام بھی ہو جاتا ہے۔ہمیں بھی کارکنوں کو بھی اور جو کار کن نہیں ہیں۔انہیں بھی دعا کرنی چاہیے کہ خدا کا نام روشن ہو اور اس کی عظمت اور اس کا جلال دنیا پر ظاہر ہو آمین خطبہ ثانی میں فرمایا : (۱) آج جمعہ کے بعد میں دو جنازہ پڑھوں گا۔ایک تو چودھری محمد ولایت خان مخدوم پور کے ہیں۔