خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 199

199 کی مراد یہی ہے کہ کسی اخلاقی مجرم کو سزا نہ دینی چاہیے۔تو پھر مانا پڑے گا کہ چور کے ہاتھ کاٹنے کی جو تعلیم قرآن میں دی گئی ہے وہ غلط ہے۔اسی طرح اگر معترض کے نزدیک یقینا آپ کی مراد وہی ہے جو اس نے لی ہے۔تو پھر قرآن کریم کی اس تعلیم کو بھی غلط قرار دینا پڑے گا کہ اخلاقی مجرموں کو سزا دینے کے وقت تم میں رافت نہیں آنی چاہیے۔اور اگر آپ کی تعلیم کا وہی منشاء ہے جو معترض نے پیش کیا ہے۔تو پھر جس طرح آپ نے یہ بات تحریر فرمائی ہے اسی طرح آپ کی یہ بات بھی ڈائری میں موجود ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ اخلاق کے متعلق ایک کتاب لکھوں اور پھر جو میری جماعت میں سے اس کی خلاف ورزی کرے۔اس کو اپنی جماعت سے خارج کر دوں۔پس آپ کی اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیا یہ بات صحیح نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بعض آدمیوں کو ان کی بد اخلاقیوں کی وجہ سے قادیان سے نکال دیا گیا۔چنانچہ ایک کو اس واسطے حضرت مسیح موعود نے نکال دیا تھا کہ وہ بہت حقہ پیا کرتا تھا اور ایک کو اس لئے کہ وہ بالکل نکما بیٹھا بیودہ باتیں کیا کرتا تھا۔جہاں معترض نے حضرت مسیح موعود کی اس تعلیم کو دیکھا ہے وہاں اس کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ شریعت کے دوسرے احکام اور آپ کی دوسری تعلیم اس پر کیا روشنی ڈالتی ہے۔میرے نزدیک وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحیح تعلیم ہے۔جو معترض نے پیش کی ہے۔اور وہ بھی صحیح ہے۔جو دوسری جگہ حضرت مسیح موعود نے بیان فرمائی ہے۔اصل میں انسان کے اعمال دو قسم کے ہیں ایک عمل تو وہ ہیں جو ظاہر نہیں ہوتے اور عام طور پر لوگوں کی نظروں سے مخفی ہوتے ہیں اور جن کا دوسروں پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ ایسے امور ہوتے ہیں جن کا حکومت کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا۔ایسے معاملہ میں ایک مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کے عیب کو چھپائے اور پردہ پوشی اور چشم پوشی سے کام لے۔اگر ایسی حالت میں کوئی اپنے بھائی کے متعلق چشم پوشی سے کام نہیں لیتا تو وہ مجرم ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص اپنے بھائی کے عیب پر پردہ پوشی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کے عیوب پر چشم پوشی فرمائے گا۔لیکن اگر کوئی ان تشيع الفاحشه (النور (۲۰) کے ماتحت کسی ایسی بد اخلاقی کا مرتکب ہوتا ہے۔جس سے دوسروں کے اخلاق پر بد اثر پڑتا ہے۔اور بدی کی قباحت اور نفرت لوگوں کے دل سے ملتی ہے یا جو ایسے امور ہیں کہ انتظام سے تعلق رکھتے ہیں۔تو ایسے شخص کو سرزنش نہ کرنا اور خاموشی اختیار کرنا جرم ہو گا۔مثلا کسی نے جھوٹ بولا جس سے دوسرے لوگ عام طور پر واقف نہیں اور وہ بھی اپنے