خطبات محمود (جلد 9) — Page 177
177 23 اخلاق فاضلہ کی اہمیت اور ضرورت (فرموده ۱۹ جون ۱۹۲۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے خطبات جمعہ میں اخلاق فاضلہ کے متعلق بعض باتیں بیان کی ہیں اور میں اسی مضمون کو ابھی جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن چونکہ آج سرد درد کا دورہ شروع ہے۔جو مہینہ میں ایک دفعہ ہوا کرتا ہے۔اور اگر شدید ہو تو تکیہ سے سر بھی اٹھایا نہیں جا سکتا اور بولنے سے عموماً تکلیف زیادہ بڑھ جاتی ہے۔اس لئے میں کچھ زیادہ بیان نہ کر سکوں گا۔لیکن چونکہ میں چاہتا ہوں کہ اس مضمون کا تسلسل نہ ٹوٹے گو اختصار کے ساتھ ہی کچھ بیان کروں۔اس لئے آج بھی میں اسی مضمون کو لیتا ہوں۔مگر اپنے مضمون کو شروع کرنے سے پہلے بہت خوشی سے اس بات کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے سکول کے طلباء نے میری نصیحت کے ماتحت فیصلہ کیا ہے۔کہ آئندہ وہ سب شریعت کے حکم کے ماتحت ڈاڑھی رکھیں گے۔اور سگریٹ نہیں پیئں گے۔انہوں نے ایک مجلس کر کے یہ اقرار کیا اور آئندہ اس بارے میں احتیاط کرنے کا وعدہ کیا ہے ہر انسان پر دو زمانے آتے ہیں۔ایک وہ جب کہ اس پر جبر کرنا جائز ہوتا ہے۔اور دوسرا وہ جب جبرنا جائز ہو جاتا ہے۔بچپن کا زمانہ ایسا زمانہ ہوتا ہے کہ اس میں جبر جائز ہوتا ہے۔بچہ کہتا ہے میں پڑھنے نہیں جاؤں گا۔مگر ماں باپ جبراً بھیج دیتے ہیں۔بچہ کہتا ہے میں دوائی نہیں پیوں گا مگر ماں باپ زبردستی پلا دیتے ہیں۔بچہ کہتا ہے میں نہیں نہاؤں گا۔مگر ماں باپ نہلا دیتے ہیں۔تو بچپن میں ایک حد تک جبر جائز ہوتا ہے۔اس سے زائد نہیں۔مگر بڑی عمر کے آدمی پر جبر جائز نہیں ہوتا۔اسے کسی کام پر جبراً نہیں بھیج سکتے۔سوائے اس کے وہ معاہد ہو۔یعنی اس نے یہ معاہدہ کیا ہو کہ اتنا بدلہ لے کر فلاں کام کروں گا۔اس صورت