خطبات محمود (جلد 9) — Page 178
178 میں اس سے معاہدہ کا پور کرانا جائز ہو گا۔تو بچپن میں ہم جبر سے کام لے سکتے ہیں مگر جبر میں وہ لطف نہیں جو مرضی اور خوشی سے کام کرنے میں ہوتا ہے۔اور جو مرضی اور خوشی سے کئے ہوئے کام کے نتائج ہوتے ہیں وہ جبر کے نہیں ہو سکتے۔اس لئے میں بجائے اس کے کہ صیغہ کے افسروں سے کہتا ان ہی لڑکوں کو سکول میں رکھیں۔جو شریعت کے احکام کی پابندی کرتے ہوں میں نے چاہا کہ خود بچوں کے ایمان کی آزمائش کروں جو میں نے کی۔اور میں خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ بچے اس میں کامیاب نکلے۔اب مجھے امید ہے کہ ہماری جماعت کے وہ لوگ جو عمر رسیدہ ہیں۔جنہیں بچے نہیں کہا جا سکتا اور بچوں کی نسبت زیادہ مضبوط نیت اور ارادہ رکھتے ہیں وہ ان بچوں کی تقلید میں یہ باتیں اختیار کر لیں گے۔اگر وہ خود شروع میں قدم نہیں اٹھا سکے۔تو اب بچوں کے ابتدا کرنے کے بعد ان سے پیچھے نہ رہیں گے اور اسلام کے اس ظاہری حکم کی پابندی سے دریغ نہ کریں گے۔جس کی خلاف ورزی ہر ایک کو نظر آسکتی ہے اور وہ اس قسم کے بہانوں کے نیچے پناہ نہ لیں گے۔کہ ڈاڑھی رکھنا روحانیت کے اصول میں داخل ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے ایک خطبہ میں بتایا تھا بے شک یہ بات اصول اسلام میں داخل نہیں۔مگر آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے۔(1) اور آپ کا فرمانا اصول اسلام میں داخل ہے۔پھر حضرت مسیح موعود نے اس کی تصدیق فرمائی ہے۔آپ سے عرض کیا گیا جو لوگ احمدی ہو کر ڈاڑھی نہیں رکھتے انہیں تنبیہہ کیوں نہیں کی جاتی۔آپ نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایمان لاتا ہے۔اور مجھے راست باز سمجھتا ہے اسے میری شکل دیکھ کر خود بخود داڑھی رکھنے کا خیال پیدا ہو گا۔اس میں کہنے کی ضرورت نہیں۔بعض مسائل پوشیدہ ہوتے ہیں اور ان کے متعلق جب تک بتایا نہ جائے پتہ نہیں لگ سکتا۔مثلاً ہم نہیں جانتے حضرت مسیح موعود نے جھوٹ۔خیانت۔امانت کی کیا تعریف کی ہے۔کیونکہ یہ باتیں دل سے تعلق رکھتی ہیں اور جب تک ان کا اظہار نہ ہو پتہ نہیں لگتا۔مگر ڈاڑھی رکھنا بالکل ظاہر بات تھی اس لئے آپ نے فرمایا جو شخص میری شکل دیکھے گا اس میں اگر اخلاص ہو گا تو خود بخود میری شکل اختیار کر لے گا اب جو شخص اس کے بعد بھی آپ کی شکل اختیار نہیں کرتا اسے سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود کا فتویٰ اس کے متعلق یہ موجود ہے کہ اگر اخلاص ہو گا تب ایسا کرے گا۔اس کے بعد میں تمام جماعت کو مخاطب کر کے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اخلاق فاضلہ روحانی ترقیات کی طرح ایک اصل پر قائم ہیں اور میں تو کہوں گا خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہر ترقی کے لئے ایک قانون بنایا ہے۔جب تک اس کی اتباع نہ کی جائے کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔خواہ روحانیت