خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 157

157 اس کی تربیت نامکمل رہتی ہے۔وہاں اس کے اعضاء کا نشود نما بھی اچھی طرح نہیں ہو سکتا۔وہ بچہ جسے بدی کے اثر سے بچانے کے لئے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ایک طرف تو اس کی صحت خراب رہتی ہے۔اور اس کے اعضاء پوری طرح نشو نما حاصل نہیں کر سکتے۔دوسری طرف ایسے بچے ساری عمر بچے ہی رہتے ہیں۔خواہ ان کی عمر چالیس پچاس سال کی ہی ہو جائے کیونکہ وہ اس وقت تک بدی سے بچے رہ سکتے ہیں جب تک کہ بدی ان کے سامنے پیش نہیں ہوتی۔لیکن جب بھی بدی ان کے سامنے پیش ہو وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور جھٹ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں پس بچوں کو دوسرے بچوں سے نہ ملنے دینے اور علیحدہ قید رکھنے سے ہم ان کو بدی کے اثرات سے محفوظ نہیں کہہ سکتے۔بلکہ اس طرح اور بھی زیادہ ان کو بدیوں کے اثرات کو جلد تر قبول کرنے کے قابل بنا دیتے ہیں۔ان حالات میں ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ کون سے طریق ہیں جن سے بچوں کی تربیت عمدگی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔پہلی صورت جس سے ہم بچوں کے اخلاق درست بنا سکتے ہیں۔یہ ہے کہ تربیت صحیح اور پھر صحبت نیک ہو۔پچھلے خطبہ میں اس کے متعلق میں نے بعض باتیں بیان بھی کی تھیں کہ کس طرح ہم بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں اور کس طرح ہم ان کو بدیوں کے بد اثرات سے روک سکتے ہیں۔مگر وہ جو کچھ میں نے بیان کیا تھا اجمالا " تھا۔آج میں اس کے متعلق تفصیلا" بیان کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلی بات جو بچے کی تربیت کے واسطے ماں باپ کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ بچے کے ذہن میں کسی بدی کی نسبت یہ خیال نہ پیدا ہونے دیں کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں تا وہ اس بدی کو حقیر نہ سمجھنے لگ جائے۔بہت سے ماں باپ ہیں جو دل سے چاہتے ہیں کہ بدی کا اثر ان کے بچوں پر نہ ہو لیکن وہ اپنا نمونہ ایسا ان کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ بچوں کی نگاہ میں وہ بدی حقیر ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے بدی کا خیال ان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً عام طور پر ماں باپ یہ چاہتے ہیں کہ بچہ جھوٹ نہ بولے۔لیکن خود اس کے سامنے جھوٹ بول لیتے ہیں۔بعض اوقات ایک کام سے جو انہوں نے کیا ہوتا ہے مگر بچے سے اس کو چھپانے کے لئے۔کیونکہ اس کا چھپانا بچے کے حق میں مفید ہوتا ہے۔وہ انکار کر دیتے ہیں۔یا اگر بالکل صاف انکار نہیں کرتے تو ٹال مٹول اور ہیر پھیر کرنے لگ جاتے ہیں تا بچے کا خیال اس کی طرف سے بدل جائے لیکن بچے کا ذہن خدا نے ایسا بنایا ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہوشیار ہوتا ہے۔کیونکہ وہ ترقی کر رہا ہوتا ہے۔اور اپنا