خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 158

158 علم بڑھا رہا ہوتا ہے اس لئے وہ ہر بات کی زیادہ چھان بین اور جستجو کرتا ہے۔اور بات کو فورا تاڑ جاتا ہے۔ماں باپ تو یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم اس کی خیر خواہی کر رہے ہیں کہ اس سے اس بات کو چھپا رہے ہیں۔اگر نہ چھپائیں تو اس کو نقصان ہو گا۔لیکن ان کی اس روش سے وہ یہ سبق حاصل کر رہا ہوتا ہے کہ ایک کام کر کے پھر اس سے انکار بھی کیا جا سکتا ہے یا اس کو ادھر ادھر کی باتوں سے چھپایا بھی جا سکتا ہے۔کیونکہ وہ یہ خوب سمجھتا ہے کہ ماں باپ نے ایسا کام کیا تو ضرور ہے مگر اب وہ مجھ سے چھپا رہے ہیں۔بچوں کے متعلق یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ کسی بات کو تاڑ نہیں سکتے یا کوئی بات ان کے ذہن سے اتاری جا سکتی ہے۔وہ جس طرح جھٹ کسی بات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اسی طرح ہر بات جو ان کے سامنے کی جائے اسے سمجھ جاتے ہیں۔میں نے ایک تماشہ گر کی کتاب پڑھی ہے جو کہ بہت بڑے تماشاگروں میں سے ہے۔وہ خود تماشے کرتا اور بڑے بڑے تماشوں کا موجد ہے وہ اپنی کتاب میں اپنے تجربہ کی بناء پر لکھتا ہے۔میں نے اپنے کام میں سب سے زیادہ خطرناک بچوں کو پایا ہے۔بڑے بڑے پروفیسروں، سائنس دانوں اور عقل مندوں کے سامنے میں نے تماشے کئے ہیں۔مگر مجھے کبھی ذرا گھبراہٹ نہیں پیدا ہوتی۔لیکن میں بچوں کے سامنے تماشہ کرنے سے ہمیشہ گھبراتا ہوں کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ بچوں نے میری چوری پکڑ لی ہے اور اس وجہ سے مجھے اپنے تماشہ میں ناکام ہونا پڑا ہے۔اس کی وجہ وہ یہ لکھتا ہے کہ بچہ چونکہ بالکل خالی الذہن ہوتا ہے اس نے اپنے دل میں کوئی رائے نہیں قائم کی ہوتی۔وہ اس عمر میں سیکھ رہا ہوتا ہے اور اپنے علم کو کامل کر رہا ہوتا ہے۔اس لئے اس کی نگاہ معمولی معمولی باتوں پر بھی پڑتی ہے جس سے راز افشاء ہو جاتا ہے۔لیکن بڑے آدمی جو تماشہ کو دیکھتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتیں ہم سیکھ چکے ہیں ان کی طرف توجہ کی ضرورت نہیں اس لئے ان کا ذہن بڑی بڑی باتوں کی طرف جاتا ہے اور ہمارا کھیل ان کے سامنے بہت کامیاب ہوتا ہے۔بچے نے چونکہ یہ رائے نہیں قائم کی ہوتی وہ بہت سادگی سے ہماری معمولی معمولی حرکات پر غور کرتا ہے اور اکثر ایسا ہوا ہے کہ بچوں نے ہمارا کھیل خراب کر دیا۔پھر وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ سب سے بڑا اور ہوشیار اور تجربہ کار تماشا کرنے والا میں اس کو قرار دوں گا جس کا بھید بچے دریافت نہ کر سکیں۔غرض بچوں کے ذہن نہایت ہی حساس ہوتے ہیں اور ان سے کوئی چیز چھپانی بہت مشکل ہوتی ہے۔جن حالات اور جن وجوہات کی بناء پر ماں باپ بچے سے کوئی چیز چھپا رہے ہوتے ہیں وہ اپنے دل میں خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ اس طرح ہم نے بچے سے