خطبات محمود (جلد 9) — Page 137
137 ہے۔اور کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجسٹریٹ ایک چور کے متعلق سزا کا فیصلہ دیتے وقت یہ کے اور لکھے کہ اے شریف انسان میں تجھ کو چھ جینے کی سزا دیتا ہوں۔اگر وہ اپنے فیصلہ میں ایسا لکھتا ہے تو وہ مجسٹریٹ خود ملزم ہے۔کیونکہ ایک طرف تو وہ اس کو چور سمجھ کر چھ مہینے کی قید کی سزا دے رہا ہے اور دوسری طرف فیصلہ میں اس کے متعلق لکھتا ہے کہ اے شریف انسان یعنی اے بے گناہ انسان میں تجھ کو سزا دیتا ہوں کیا کوئی مجسٹریٹ ایک شخص کو بے گناہ کہہ کر اس کو سزا دے سکتا ہے۔اور اگر وہ ایسا کرے تو کیا وہ خود مجرم نہیں ٹھہرتا۔پس خدا تعالی کا نبی جب لوگوں سے کہتا ہے کہ تم بے دین اور گمراہ ہو گئے تو وہ بحیثیت ایک حج اور مجسٹریٹ کے ان کے متعلق یہ فیصلہ دیتا ہے۔لیکن اگر ہم ایسا کہتے ہیں تو ہم گناہ گار ہیں۔کیا ہر ایک کام جسے ہم کسی دوسرے کو کرتے دیکھیں خود بھی کرنے لگ جاتے ہیں۔مثلاً ایک استاد لڑکے کو اس کی غلطی پر سزا دیتا ہے۔اس کا حق ہوتا ہے کہ اس کو سزا دے۔ہر شخص سزا نہیں دے سکتا۔کیا اگر ایک بڑی عمر کا شخص اٹھ کر کے کہ میں بھی لڑکے کو مارتا ہوں کیونکہ میں استاد سے بھی عمر میں بڑا ہوں۔تو یہ جائز ہو سکتا ہے۔ماروہی سکتا ہے جس کے لئے سزا دینے کا حق مقرر ہے۔ہر شخص جسے سزا دینے کا کوئی حق نہیں وہ سزا نہیں دے سکتا۔اسی طرح ایک ڈاکٹر کسی مریض کی آنکھوں کا اپریشن کرتا ہے۔لیکن اگر دوسرا شخص جو ڈاکٹر نہیں کہے کہ میں بھی آنکھ کا اپریشن کروں گا تو یہ اس کی سخت بیوقوفی ہو گی۔کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو یقیناً مریض کی آنکھ نکال دیگا۔لیکن ایک ڈاکٹر بحیثیت اس فن میں ماہر ہونے کے حق رکھتا ہے کہ مریض کی آنکھوں کا اپریشن کرے۔پس نبی بطور جج اور ڈاکٹر کے ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کو آکر بتاتے ہیں تم نے یہ جرم کیا ہے یا تمہیں یہ بیماری ہے۔مگر ان معاملات میں ہمارا حق نہیں ہوتا کہ ہم بھی اسی طرح کہیں۔ہر سخت لفظ جو ایک نبی گمراہ شدہ لوگوں کے متعلق بولتا ہے وہ دین کی خدمت ہوتی ہے۔کیونکہ اگر وہ بھی ان لوگوں کو ان کے جرائم سے مطلع نہ کرے۔اور ان کو تنبیہہ نہ کرے۔تو انہیں اپنی غلطیاں۔غلطیاں ہی نہ معلوم ہوں اور وہ بدیوں میں ترقی کرتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں کہیں سخت الفاظ استعمال کئے ہیں وہ بطور حج اور مجسٹریٹ کے استعمال کئے ہیں۔ورنہ جہاں کہیں اپنی ذات کا معاملہ آپڑتا ہے وہاں تو فرماتے ہیں۔گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے جیسا کہ مجسٹریٹ بھی جب کورٹ میں بحیثیت ایک منصف بیٹھا ہو ایک چور کو چورہی کہے گا۔لیکن