خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 126

+ 126 طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کو طریق تبلیغ سے پوری پوری واقفیت حاصل کرنی چاہیے ورنہ ہماری تبلیغ کوئی فائدہ نہیں دے سکتی بلکہ الٹا نقصان کا اندیشہ ہو گا۔یہ مت خیال کرو کہ دلیل کا نام طریق تبلیغ ہے۔یعنی جو شخص زیادہ دلا ئل جانتا ہے وہی زیادہ کامیاب مبلغ ہے۔اور اس کی تبلیغ، تبلیغ کہلانے کی مستحق ہے۔کیونکہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جسے بیسیوں دلائل آتے ہیں وہ کسی ایک شخص کو بھی اپنے ان دلائل کے ذریعہ احمدیت میں داخل نہیں کر سکتا۔لیکن اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص جس کو صرف ایک دلیل آتی ہے اور وہ اس کا استعمال جانتا ہے اور وہ اسی ایک دلیل کے ذریعہ کئی اشخاص کے دلوں کو احمدیت کی طرف مائل کر دیتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ شخص جس کے پاس بہت سی دلیلیں ہیں وہ ان کے استعمال کا صحیح طریقہ اور موقع محل نہیں جانتا۔لیکن وہ شخص جس کے پاس صرف ایک دلیل ہے وہ اس کے صحیح طریقہ استعمال کے جاننے کی وجہ سے اس سے زیادہ فائدہ اٹھا لیتا ہے اور کئی لوگوں کو صرف ایک دلیل سے ہی صداقت کا قائل کر سکتا ہے۔انسانوں کے خیالات جس طرح الگ الگ ہوتے ہیں۔ان کی طبیعتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ایک دلیل ایک شخص پر اثر کرتی ہے۔لیکن وہی دلیل دوسرے پر بالکل اثر نہیں کرتی۔جس طرح کہ کوئی نسخہ ہر مرض میں مفید نہیں ہوتا۔ہر شخص کی طبیعت اور بیماری کے مطابق ڈاکٹر کو نسخہ لکھنا پڑتا ہے۔اسی طرح سینکڑوں لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک دلیل سے مانتے ہیں اور ہزاروں ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک ان کو کوئی دوسری دلیل نہ دی جائے وہ نہیں مانتے۔اور پھر ایک ہی دلیل کو کئی پیرایوں میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔کیونکہ ایک شخص کو وہ دلیل ایک پیرائے میں اثر کرتی ہے۔تو دوسرے کو دوسرے پیرائے میں اور اگر دونوں کے سامنے ایک ہی پیرائے میں دلیل پیش کی جائے تو ایک پر اثر کرے گی لیکن دوسرے پر نہیں کرے گی۔کئی لوگ ایسے ہوں گے کہ وفات مسیح کے مسئلہ کو وہ کچھ بھی اہمیت نہ دیں گے اور اس کے متعلق ان کے دل میں کوئی شبہ ہی نہ ہو گا۔ان کے لئے یہی ضروری ہو گا کہ ان کو یہ بتائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی وہ خدمات کی ہیں جن کے بغیر اسلام کا زندہ رہنا نا ممکن تھا۔ایسے لوگوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ خدمات جو آپ نے اسلام کی خاطر کیں۔ان کا پیش کرنا ان کے لئے بہت بڑی مئوثر دلیل ہو گا۔پھر بعض ایسے ہوں گے جو آپ کے نشانات کو دیکھ کر صداقت قبول کریں گے۔پس مبلغ کو چاہیے کہ پہلے انسان کے حالات سے اندازہ