خطبات محمود (جلد 9) — Page 127
127 لگائے کہ کس طرح اور کونسی دلیل اس پر اثر کر سکتی ہے اور پھر اس کو ایسے طریقہ سے سمجھائے اور اس طرح اس کے سامنے دلیلیں پیش کرے جس سے اس کی تسلی ہو جائے۔پھر کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ نشانات کا بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے آکر دنیا کے اندر عقلی اور علمی طور پر کونسا تغیر پیدا کیا اور ہم اس سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔وہ کسی اور دلیل کے محتاج نہیں ہوتے ان کے لئے صرف یہی ایک دلیل کافی ہوتی ہے جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی پھر کئی ایسے ہوتے ہیں جو یہ دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے آکر کونسا ایسا طریقہ بتایا ہے جس سے معاشرتی اور تمدنی ترقی ہو سکتی ہے۔ایسے لوگوں کو وفات مسیح کے متعلق خواہ لاکھ دلیلیں دیں پھر بھی ان پر کوئی اثر نہ ہو گا۔ہاں اگر ان کو یہ بتا دیں کہ اس شخص نے ہمیں ایسے طریقے بتائے ہیں کہ اگر ہم ان پر چلیں تو بہت جلد دنیا کی علمی اور تمدنی ترقی ہو سکتی ہے تو ان پر اس دلیل کا ہی بہت اثر ہو گا۔پھر بعض ایسے ہوں گے جو یہ پوچھیں گے کہ آیا اس شخص کے متعلق جس نے دعوی کیا ہے۔پہلی کتابوں میں بھی کوئی ذکر آیا ہے۔ان کو خواہ کتنے نشان دکھائیں اور کتنے ایسے کام بتائیں۔جو آپ نے اسلام کی خدمت کے لئے کئے ہوں یا کتنا سمجھائیں کہ آپ نے دنیا کے اندر اگر اس تمدنی اور علمی ترقی کے لئے یہ یہ کوششیں کی ہیں۔لیکن پھر بھی وہ شبہ میں ہی رہیں گے۔اور جب تک ان کو یہ نہ بتایا جائے گا کہ پچھلی کتابوں میں بھی آپ کے متعلق کئی جگہ ذکر آیا ہے تب تک ان پر کوئی اثر نہ ہو گا۔پھر بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے۔جو یہ کہیں گے کہ دنیا کی بہبودی اور اصلاح کی خاطر اس شخص نے ذاتی قربانی کیا کی ہے۔کیا اس شخص کے دل میں واقعی دنیا کی اصلاح کی تڑپ اور درد تھا۔جب تک انہیں یہ نہ بتائیں کہ اس نے یہ یہ تکالیف دنیا کی اصلاح کی خاطر اور اسے راستی کی طرف لانے کے لئے اٹھائیں تب تک ان پر کسی قسم کا اثر نہیں ہو تا۔غرضیکہ دلائل کے سینکڑوں طریقے ہیں۔کوئی شخص ایک طریقہ سے مانتا ہے اور کوئی دوسرے طریقہ ہے۔کوئی یہ کہتا ہے کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو کیوں مولویوں نے اسے نہیں مانا۔کوئی یہ کہتا ہے کہ اسے صوفیوں نے نہیں مانا تو ہم کیوں مان لیں۔غرض مختلف طریقوں سے کام لینا چاہیے اور ہر ایک کے مرض کو پہلے اچھی طرح