خطبات محمود (جلد 9) — Page 62
62 ہے ناشکری نہیں کرتا۔بلکہ میں اسے قدر اور شکریہ کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ جو شخص انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔وہ خدا تعالیٰ کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے من لم يشكر الناس لم یشکر الله (1) پس اس موقع پر جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے خواہ وہ عیسائی ہوں۔خواہ ہندو۔خواہ پارسی۔خواہ آریہ۔کسی مذہب کے ہوں۔میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے اس فعل کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا دل اپنے اندر ان کی قدر کا خاص احساس پاتا ہے۔اور جب کہ میں ان لوگوں کے اس ہمدردانہ فعل کا بھی شکریہ کرتا ہوں تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جو مذہبا " افغان گورنمنٹ کے ساتھ ہیں۔ان کی اس ہمدردی کو ناقدری کی نگاہ سے دیکھوں جو انہوں نے ہمارے بھائیوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ قتل کئے جانے پر کی ہے۔یقیناً میں ان غیر احمدی اصحاب کو بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور ان کی ہمدردی کا اپنے اندر گہرا احساس پاتا ہوں اور اس کو ناقدری اور ناشکری کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔پھر جب کہ ان غیر احمدیوں کی ہمدردی جو ہمارے سخت مخالف ہیں۔لیکن اس وقت خدا کے لئے اور انسانیت کے تقاضا سے وہ ہماری ہمدردی میں کھڑے ہوئے ہیں ان کی ہمدردی میرے دل پر اثر کرتی ہے۔اور جب کہ وہ لوگ جو مذہب میں بھی ہمارے ساتھ شریک نہیں۔بلکہ وہ اسلام کے سخت مخالف ہیں ان کی ہمدردی کا شکر اور امتنان میرے لئے ممکن ہے اور میں ان کی قدر کر سکتا ہوں۔تو پھر میرے لئے یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں ان لوگوں کی جو کہ ہمارے سلسلہ سے متعلق ہیں۔گو کتنا ہی بعد رکھتے ہوں ان کی اس ہمدردی اور ان کوششوں کو جنہوں نے لوگوں کے جذبات یا خیالات میں ہیجان پیدا کر دیا ہو۔شکر اور امتنان کی نظر سے نہ دیکھوں۔میرے دل میں حاشا و کلا ایک منٹ کے لئے بھی کبھی ان کے متعلق بغض و عناد پیدا نہیں ہوا۔اور نہ اب ہے۔بلکہ میں ان کے فعل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں بلکہ میرے دل میں ان کا یہ فعل محبت کے جذبات بھی پیدا کرنے والا ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں سے نہیں بنایا جو اختلاف کو عداوت کی وجہ بنا لیتے ہیں۔اور میرے نزدیک جو شخص اختلاف کو عداوت کی وجہ قرار دیتا ہے وہ عقل و دانش کو کھوتا ہے۔پس خواہ وہ کتنا ہی ہم سے بعد رکھتے ہوں اور خواہ مجھے ان سے کتنا ہی اختلاف ہو اور خواہ ان کی عدوات ہم سے کس قدر ہی بڑھی ہوئی ہو پھر بھی میں ان کے اس فعل کو جو کہ انہوں نے انسانیت اور شرافت کے تقاضے سے کیا ہے۔نظر انداز نہیں کر سکتا۔لیکن میں اس خیال کو بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ انہوں نے کوئی ایسا کام کیا ہے۔یا وہ کوئی ایسا کام کر سکتے ہیں۔جو ہم نے اس