خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 53

53 قربانیاں بھی دو طرح کی ہوتی ہیں۔ایک فردی اور ایک قومی فردی ترقی میں بھی ایک انسان اپنی راتیں اپنا آرام قربان کر کے علم حاصل کرتا ہے۔اور پھر وہ حج بنتا ہے۔یا کوئی اور بڑا عہدہ اس کو مل جاتا ہے۔یا اس نے تجارت کی اور اپنی عقل اور خرد سے اسے اس طرح چلایا کہ وہ کروڑپتی ہو گیا اور اپنی ذات میں اس نے ترقی حاصل کر لی۔جس سے بہت بڑی عزت پا گیا۔لیکن ایک اور شخص ہے جس نے اپنا وقت اپنی راتیں اپنا آرام قربان کر کے علم حاصل کیا۔اگر وہ چاہے تو ذاتی طور پر اس کو بڑے بڑے عہدے مل سکتے ہیں اور وہ کافی ترقی کر سکتا ہے۔لیکن وہ اپنے فوائد کو قوم کے لئے قربان کر دیتا ہے۔اسے خیال آتا ہے کہ میرے ملک میں تعلیم نہیں۔وہ انگلستان سے اس امر میں بہت پیچھے ہے۔اپنی تعلیم پر ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کے بعد اپنے گاؤں میں آکر مدرسہ کھول دیتا ہے اور اس بات پر راضی ہو جاتا ہے کہ گاؤں کے لوگ ایک پرائمری سکول کے معلم کی طرح اس کو روٹی کپڑا دے دیں۔اس گاؤں کے لڑکوں کو تعلیم دینی شروع کر دیتا ہے۔اور اس طرح ان کو اعلیٰ درجہ پر پہنچا دیتا ہے۔گو اس قربانی کا فائدہ اس کی اپنی ذات کو نہیں ملے گا۔لیکن آئندہ نسلیں یہ ضرور کہیں گی کہ یہ گاؤں بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کا گاؤں ہے اور ان لوگوں کو خاص عزت اور وقعت کی نظر سے دیکھا جائے گا۔اس طرح اس کی قربانی کا فائدہ اس کی ذات کو نہیں ملے گا۔لیکن اس کی قربانی کی وجہ سے اس کے گاؤں کے لوگوں کو قومی عزت ضرور حاصل ہو جائے گی۔ایک بوڑھے کی ایک حکایت مشہور ہے۔کہ وہ کوئی ایسا درخت لگا رہا تھا۔جو تمہیں چالیس سال کے بعد پھل دیتا تھا۔بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا۔اس نے کہا بوڑھے تو ایسا درخت لگا رہا ہے۔جس کے پھل دینے سے پہلے تو مر جائے گا۔پھر تجھے اس کے لگانے کا کیا فائدہ۔بوڑھے نے کہا۔بادشاہ سلامت اگر ہمارے بزرگ یہی خیال کر کے کوئی درخت نہ ہوتے تو آج ہم ان کا پھل کھانے سے محروم رہتے۔انہوں نے بویا۔تو ہم نے کھایا۔ہم بوئیں گے تو ہماری نسلیں کھائیں گی۔بادشاہ کو اس کی یہ بات بہت پسند آئی۔اور اس نے کہا زہ۔بادشاہ نے اپنے وزیر کو یہ کہہ رکھا تھا کہ میں جس کی بات پر زہ کہا کروں تم اسے چار ہزار روپے کی تھیلی انعام دے دیا کرو۔چنانچہ جب بادشاہ نے زہ کہا۔تو وزیر نے چار ہزار کی تھیلی بوڑھے کے آگے رکھ دی۔اس پر بوڑھے نے کہا۔آپ تو کہتے تھے کہ یہ درخت میری زندگی میں پھل نہیں دے گا۔مگر دیکھئے اس نے تو مجھے لگاتے لگاتے ہی پھل دے دیا۔اس پر بادشاہ نے پھر زہ کہا اور وزیر نے پھر ایک تھیلی بوڑھے کو دے دی۔اس پر بوڑھے نے کہا دیکھئے بادشاہ سلامت یہ کیسا عجیب درخت ہے۔اور درخت تو سال میں ایک دفعہ پھل دیتے