خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 52

52 نہیں ہے۔بلکہ جو منتظم جماعتیں ہیں ان سے بھی ایسے چندے خاص جدوجہد کے بعد جا کر وصول ہو سکتے ہیں۔اس شبہ کے علاوہ ایک دوسرا سوال بھی ہے۔جو اس وقت تو کسی نے پیش نہیں کیا۔لیکن وہ ایک دفعہ شوری میں پیش ہوا تھا۔کہ اگر اس طرح چندے دیئے جائیں گے تو جماعت کو ترقی کس طرح حاصل ہو گی اور وہ بڑھے گی کیسے۔پہلا سوال جو تھا وہ تو نارا قفی اور کم علمی کا نتیجہ تھا۔لیکن یہ سوال کمئی ایمان کا نتیجہ ہے اور اسی طرح جہالت اور ناوا قفی کا بھی نتیجہ ہے۔دراصل ترقی دو قسم کی ہوتی ہے ایک فردی کہ قوم کا کوئی فرد بڑھ جاتا ہے۔اور ترقی کر جاتا مثلا کسی شخص نے محنت کر کے علم پڑھا اور وہ مشہور عالم فاضل ہو گیا یا کوئی بڑا عہدہ اس کو مل ہے۔گیا۔یا تجارت میں بہت بڑھ گیا۔یہ فردی ترقی کہلاتی ہے۔اور ایک ترقی قومی ہوتی ہے۔جیسے انگریزوں کی قوم کو قومی ترقی حاصل ہے۔اور جو عزت قومی ترقی میں ہوتی ہے وہ فردی ترقی میں ہرگز نہیں ہوتی۔بعض ہندوستانی انفرادی طور پر اتنے مالدار ہیں کہ سو سو انگریزوں کو نوکر رکھ سکتے ہیں۔لیکن انگریزوں کی قومی ترقی کی وجہ سے جتنی عزت ان نوکر انگریزوں کی ہو سکتی ہے اتنی عزت اس نوکر رکھنے والے کروڑ پتی کی نہیں ہو گی۔کیوں اس لئے کہ انگریزوں کو قومی عظمت اور ترقی حاصل ہے۔اسی لحاظ سے انگریزوں کو یہ عزت حاصل ہے کہ اگر کوئی ان میں سے دنیا کے کسی حصہ میں مارا جائے۔تو اس کا بدلہ لینے کے لئے سب سے بڑے جنگی جہازوں اور بیڑے اور سب سے زیادہ کھلے منہ والی توپیں انگریزوں کی طرف سے وہاں جا پہنچیں گی۔اور خواہ کوئی امیر ہو یا کوئی حکومت۔اس سے مطالبہ کریں گے کہ یا تو وہ ان کے آدمی کی موت کی تلافی کرے۔یا پھر جنگ کے ذریعے اس کو تباہ و برباد ہونا پڑے گا۔یہی وجہ ہے کہ ایک انگریز کو کسی ملک میں بھی کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔کیونکہ اس کے پیچھے اس کی حفاظت کرنے والی قوم موجود ہے اور غیر حکومتیں جانتی ہیں کہ پھر ان کو جنگ کرنی پڑے گی۔لیکن اس کے مقابلہ میں ہندوستانی کروڑ پتی ہو کر اور انگریزوں کو اپنا نوکر رکھ کر بھی بالکل ذلیل ہے اور اس کی کوئی عزت نہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے نوکر انگریز کو تو قومی عزت حاصل ہے اور اس کو انفرادی عزت حاصل ہے۔اور اس قومی عزت کے فقدان اور کمی کی وجہ سے انگلستان کے ایک جھاڑو دینے والے کے برابر بھی اس کی عزت نہیں ہے۔تو جس طرح ترقی اور عزت دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک فردی اور ایک قومی۔اسی طرح