خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 51

سکتا۔51 ہیں کہ سیکرٹری اور پریذیڈنٹ متواتر اور بار بار ان کے پاس جاتے ہیں مگر پھر بھی وہ چندہ میں شریک نہیں ہوتے۔جیسا کہ یہی دو صاحب جنہوں نے مجھے خط لکھا ہے۔ایک کی نسبت تو وہاں کے امیر نے لکھا ہے کہ ہم بار بار ان کے پاس گئے۔مگر انہوں نے چندہ دینا منظور نہ کیا۔اور دوسرے صاحب خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اس تحریک میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔اس حالت میں ان کا فرض تھا کہ چندہ دینے والے احمدیوں کی تعداد کا اندازہ لگاتے وقت اپنے جیسے کمزور ایمان والوں کو بھی اس میں سے نکال لیتے پھر وہ اپنے شہر کی نسبت لگا کر ہر شہر کی منتظم جماعت کے کمزوروں کو معلوم کر لیتے۔اس طرح باقی منتظم جماعت اتنی ہی رہ جاتی ہے کہ وہ ایک مہینے کی آمدنی دے کر بمشکل اس رقم کو پورا کر سکتی ہے۔کیونکہ اس کے علاوہ نہ تو ہمیں ان غیر ممالک کی جماعتوں سے کچھ وصول ہو ہے۔جن کی مقامی ضروریات اور اخراجات ہی ان ماہواری چندوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔اور نہ ہمیں ان احمدیوں سے کوئی چندہ وصول ہو سکتا ہے جنہوں نے احمدی ہو کر پھر مرکز سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔اور نہ ان سے ہمیں کچھ امید ہو سکتی ہے جو کہ چندہ دینے سے ہی منکر ہیں۔کیونکہ کوئی پولیس تو ہے نہیں کہ جس کے ذریعے ان سے وصول کیا جائے۔اور نہ ان سے ہمیں کچھ وصول ہو سکتا ہے جو بیعت کر کے پھر غائب ہو گئے اور ان کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔اور نہ ان سے جو ایک ایک دو دو کر کے سینکڑوں میلوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں۔اور بغیر آدمی بھیجے ان سے کچھ وصول نہیں ہو سکتا۔اور آدمی بھیجا جائے تو اس کا خرچ چندہ کی وصولی سے بہت بڑھ جاتا ہے۔نہ ہی ان کے پاس کوئی اخبار جاتا ہے کہ وہ پڑھ کر چندوں کی تحریکوں میں شامل ہوں۔پس خیالی طور پر تو یہ ذریعہ چندے کی وصولی کا بہت عمدہ نظر آتا ہے کہ جب جماعت کی تعداد دس لاکھ ہے تو دو آنے فی کس چندہ وصول کرنے سے سوالاکھ روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔لیکن غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال بالکل ناواقفی اور کم علمی کا نتیجہ ہے۔یہ خیال بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک شخص نے حضرت خلیفہ اول سے کچھ مانگا۔آپ نے فرمایا ہم غریب آدمی ہیں۔ہر وقت ہمارے پاس روپیہ نہیں ہوتا۔مانگنے والے نے جواب میں کہا۔آپ غریب کس طرح ہو سکتے ہیں۔آپ کے پانچ لاکھ مرید ہیں۔اگر چار چار آنے ماہوار بھی فی آدمی آپ کو نذرانہ دے۔تو سوا لاکھ روپیہ آپ کے پاس جمع ہو ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اوروں کو تو آپ جانے دیں۔آپ بھی تو میرے مرید ہیں۔آپ بتائیں آپ نے مجھے آج تک کتنی چونیاں بطور نذرانہ دی ہیں۔یہی حال آپ دوسروں کا قیاس کر لیں۔پس خیال میں تو یہ تجویز عمدہ اور ممکن نظر آتی ہے۔لیکن در حقیقت ایسا ہونا ممکن سکتا د کہلاتے