خطبات محمود (جلد 9) — Page 395
ふゆう مہمان جہاں آجائیں وہاں لوگ گھبرا جاتے ہیں تو جس جگہ تیرہ چودہ ہزار آجائیں۔وہاں گھبرا جانا کوئی بڑی بات نہیں۔لیکن اگر ایک انتظام کے ماتحت کام کیا جائے تو تیرہ چودہ ہزار کیا اس سے دو چند بھی آدمی اگر آجائیں۔تو بھی کسی قسم کی گھبراہٹ پیدا نہیں ہو سکتی۔بڑی بات جو اس موقع پر مد نظر رکھنی چاہئے وہ اقتصاد ہے۔عام انتظام کے علاوہ اقتصادی پہلو کو بڑی احتیاط سے مد نظر رکھنا چاہئے کیونکہ بعض اوقات انسان زیادہ کام کی گھبراہٹ میں اقتصادی پہلو کو خاطر خواہ طور پر مد نظر نہیں رکھ سکتا اور بعض دفعہ تو حالات ہی کچھ ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ اسے اقتصادی پہلو کو مد نظر رکھ کر کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے اس لئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خاص طور پر کوشش کی جائے کہ اقتصادی پہلو ہاتھ سے نہ نکلے۔اس وقت مالی تنگی بڑھی ہوئی ہے۔یہاں تک کہ کارکنوں کو تین تین چار چار ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں اور بعض کو تو عملاً " فاقے آ رہے ہیں۔اب اگر اقتصادی پہلو کو مد نظر نہ رکھا گیا اور اخراجات کے متعلق احتیاط نہ کی گئی تو یہ تنگی اور بھی بڑھ جائے گی۔چونکہ جلسہ کے اخراجات ناگہانی طور پر پڑتے ہیں اور ان دنوں مالی تنگی اور بھی بڑھ جاتی ہے اس لئے اگر اخراجات میں کفایت اور اشیاء کی احتیاط کی طرف توجہ نہ کی جائے۔تو اخراجات بڑھنے کے ساتھ مالی تنگی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔پس جلسہ میں کام کرنے والوں کو خصوصاً اور دوسرے لوگوں کو عموماً کہتا ہوں کہ وہ اس بات کو مد نظر رکھیں کہ چیزیں ضائع نہ ہوں۔پھر جن دوستوں کے گھروں پر بعض لوگ ٹھریں۔ان کا یہ اہم فرض ہے کہ وہ اس بات کو پورے غور کے ساتھ مد نظر رکھیں اور جتنے آدمی ہوں اتنے آدمیوں کا ہی کھانا لیں۔تا ایسا نہ ہو وہ ضرورت سے زیادہ کھانا لے لیں جو ضائع ہو۔اس بات کو پہلے ہی خوب غور سے دیکھ لو کہ کتنے آدمی ہیں اور کتنا کھانا ان کے لئے ضروری ہے۔پس جتنے کی ضرورت ہو۔اتنا ہی لیا جائے۔پھر ایک اور طریق بھی ہے جس سے کھانا ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور وہ یہ کہ اگر پچاس آدمی ہوں اور ان کو الگ الگ کھانا کھلایا جائے تو اس طرح بہت ضائع ہو جاتا ہے اور خود ان کو بھی پورا نہیں ہوتا لیکن اگر ان کو اکٹھا کھانے کے لئے بٹھا دیا جائے۔تو تمہیں آدمی کا کھانا بھی پچاس آدمیوں کو کفایت کر سکتا ہے۔الگ کھلانے سے بہت نقصان ہو سکتا ہے اسی طرح اگر سارے جلسے میں یہ انتظام قائم رکھا جائے کہ سب کو اکٹھا کھانا کھلایا جائے تو بہت سی بچت ہو سکتی ہے۔اگر الگ الگ ہی کھلایا جائے تو چار پانچ ہزار روپیہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔بعض دفعہ کھانا کھلانے والے اس خیال سے کہ ہمیں تکلیف نہ ہو۔اس بات کا خیال نہیں