خطبات محمود (جلد 9) — Page 394
394 مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کی ترقی کے لئے کی۔پس میں تمام ایسے احمدیوں کو جنھیں قادیان میں مکان بنانے کی خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہتا ہوں کہ وہ جس قدر بھی حصہ اپنے مکانوں سے مہمانوں کے لئے دے سکتے ہوں۔۔کارکنان کو دے دیں تاکہ وہ مہمانوں کو ان میں ٹھہرائیں۔اس طرح وہ اس پیشگوئی کو خود بھی پورا کرنے والے ہوں گے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی۔پس دوستوں کو چاہئے کہ جس قدر حصہ مکان وہ فارغ کر سکتے ہیں کر دیں اور اس کی اطلات کارکنان کو جلد سے جلد دے دیں۔دوسری نصیحت میں یہ کرنی چاہتا ہوں کہ ایسے موقع پر صرف مکان دے دینے سے کام نہیں چل سکتا۔جب تک ایسے آدمی نہ ہوں جو کارکنوں کے ساتھ بطور مدد گار کام نہ کریں۔پس جو دوست اپنے کام سے فارغ ہو سکتے ہیں۔سوائے دوکانداروں کے ان کو چاہئے کہ وہ اپنی خدمات اس موقع پر پیش کر دیں۔پھر مختلف صیغوں میں کام کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ سوائے اس صیغہ کے آدمیوں کے جنھیں ان دنوں ضروری طور پر اپنے کام پر رہنا پڑتا ہے۔باقی سب مہمان نوازی میں حصہ لیں۔میں پیشہ وروں کو بھی ان میں شامل سمجھتا ہوں اور ان سے بھی یہ کہتا ہوں کہ وہ بھی اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور کارکنوں کی مدد کریں۔رو دکاندار اور پیشہ وروں میں فرق ہے۔پیشہ ور نے تو ان دنوں میں بھی وہی معمولی تین چار روپے کمانے ہوتے ہیں۔جو عام طور پر کمایا کرتا ہے۔لیکن دوکاندار نے ان دنوں اپنے سال کی کمائی کرنی ہوتی ہے۔پس پیشہ وروں کو چاہئے کہ کچھ وقت شمولیت جلسہ میں دیں اور کچھ وقت جلسہ کے کام میں لگائیں۔کچھ وقت خدا تعالیٰ کے لئے بھی وقف کرنا چاہئے۔کام تو ہر روز کرتے ہی ہیں مگر سال کے بعد یہ تین چار دن ایسے آتے ہیں۔جن میں اگر خدا ان کو توفیق دے تو اپنے کام کے سوا وسرا کام کرنا پڑتا ہے۔پس انہیں چاہتے کہ اس ثواب سے محروم نہ رہیں۔آخر باہر سے تاجر بھی آتے ہیں۔زمیندار بھی آتے ہیں۔پیشہ ور بھی آتے ہیں۔وہ اپنے کام چھوڑ کر ہی آتے ہیں۔پھر کیا؟ وجہ ہے کہ قادیان یا اس کے ارد گرد کے زمیندار اپنے کام کو ان کے لئے نہ چھوڑیں اور قادیان کے پیشہ ور مہمانوں کی خدمت کرنے کے لئے اپنا وقت صرف نہ کریں۔میں سوائے تاجروں کے سب سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کریں۔تیسری بات جو میں کہنی چاہتا ہوں وہ اخراجات کے متعلق ہے جلسہ کے موقع پر ہر ایک شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اسی طرح کام کرے۔جس سے اخراجات بے جا نہ ہوں۔دس ہیں