خطبات محمود (جلد 9) — Page 390
390 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسے کے متعلق دی۔خدا کی طرف سے نہ ہوتی تو ضرور تھا کہ بانی سلسلہ کے بعد اس میں ضعف پیدا ہو جاتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں کوئی ایسی بات پیدا نہیں ہو رہی۔جو کمی پر دلالت کرے۔بلکہ اس میں ہر لحظہ ترقی ہو رہی ہے جو بتاتی ہے کہ یہ خبر خدا کی طرف سے تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی خدا کی طرف سے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آخری جلسہ میں جس کے بعد آپ فوت ہو گئے۔جلسہ پر آنے والوں کی تعداد سات سو تھی لیکن اب خدا کے فضل سے بارہ تیرہ ہزار تک آدمی آتے ہیں۔بلکہ بعض وقت تو ان کی تعداد چودہ ہزار تک بھی پہنچ جاتی ہے جو اس تعداد سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں تھی دس گنا سے بھی زیادہ ہے۔کیا اس قدر ہجوم کو دیکھ کر جو صرف خدا کی خاطر یہاں آتا ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ قادیان میں حرم کی طرح ہجوم کے متعلق جو پیشگوئی ہے۔وہ پوری نہیں ہو رہی۔ایک شخص واقعات سے منہ پھیر کر اور آنکھیں بند کرکے یہ کہہ دے کہ جلسہ پر آنے والوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا تو الگ بات ہے ورنہ یہ واقعات ایسے کھلے کھلے ہیں کہ کوئی ان سے انکار نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش از وقت اس جلسہ کے متعلق خبردی کہ اس میں کثرت سے لوگ آیا کریں گے اور سب دیکھتے ہیں کہ ہر سال آنے والوں میں ترقی ہو رہی ہے۔اس سے ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہر سال ہمارے ایمان کو تازہ کرنے کے لئے پوری ہوتی ہے اور ہر سال اپنی صداقت کا پھل دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کی مثال جو ہر سال پوری ہو کر پھل دے رہی ہے۔اس شخص کی طرح ہے۔جو بہت بوڑھا تھا مگر درخت لگا رہا تھا۔درخت لگاتے ہوئے اسے ایک بادشاہ نے دیکھا اور اسے کہا۔درخت تو کئی سال کے بعد پھل لاتا ہے اور تم بوڑھے ہو۔اس کا پھل تو تم نہیں کھا سکو گے پھر اسے کیوں ہوتے ہو کم از کم یہ دس پندرہ سال کے بعد پھل لانے کے قابل ہو گا اور اس وقت شائد تم قبر میں ہوگے۔بوڑھے باغبان نے جواب دیا۔بادشاہ سلامت ہمارے بڑوں نے درخت لگائے۔تو ہم نے پھل کھائے۔اب ہم لگاتے ہیں تا ہماری اولاد پھل کھائے۔ہمارے باپ دادا اگر یہ خیال کر کے کہ ہم کو پھل کھانا نصیب نہ ہو گا درخت نہ لگاتے۔تو پھر ہم ان کا پھل کس طرح کھا سکتے اسی طرح ہم بھی آنے والی نسل کے لئے لگاتے ہیں۔بادشاہ کو یہ بات بہت پسند آئی۔اس نے کہا۔”کیا خوب اور اس کا حکم تھا کہ جب وہ کسی بات پر کہے کیا