خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 34

34 6 اپنے ایمان کی خوشبو پھیلائیں (فرموده ۱۳ فروری ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : صداقت اپنی ذات میں گو کسی تصدیق کی محتاج نہیں لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہمیشہ قیمت اور قدر اسی نسبت کے لحاظ سے ہوتی ہے جس نسبت سے کہ وہ لوگوں کو نفع اور فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ہر ایک چیز کی قیمت وہی ہوتی ہے۔جو اس سے دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور سکتا ہے اور سکتا میں فرق ہے۔"سکتا" دو طرح پر ہوتا ہے۔ایک تو یہ کہ وہ چیز خود اپنی ذات کے لحاظ سے کتنا نفع پہنچا سکتی ہے اور ایک یہ کہ واقعہ میں کتنا نفع پہنچاتی ہے۔اگر ایک چیز فائدہ دینے والی ہے اور وہ نفع پہنچا سکتی ہے لیکن عملاوہ نفع نہ دے تو کم سے کم وہ اس زمانہ کے لئے جس میں وہ دنیا کو نفع نہیں پہنچا رہی ایک بے حقیقت چیز ہے۔اس کی اصل قیمت اسی وقت سے شروع ہو گی کہ جب وہ دنیا کو فائدہ پہنچانا شروع کر دے۔مذاہب کی قدر و قیمت بھی میرے نزدیک اس لحاظ سے ہے۔بے شک اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں کہ مذہب میں وہ طاقتیں ہیں کہ جس سے دنیا کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے اور یہی بات ہے کہ جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز اور افضل ہے۔لیکن محض اس نسبت کے لحاظ سے کہ اس میں ایسی طاقتیں موجود ہیں۔اس کی اصل قدر و قیمت ظاہر نہیں ہوتی۔اس کی اصل قیمت اور قدر جب ہو گی کہ وہ عملی طور پر لوگوں کو نفع پہنچائے۔سونے کی قیمت اس وقت سے پڑنی شروع ہوتی ہے جب وہ کان سے باہر آجاتا ہے اور لوگ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔لیکن جب تک وہ کان کے اندر مخفی ہوتا ہے اس کی کوئی قیمت اور قدر نہیں ہوتی۔سمندر کی تہہ میں لاکھوں موتی موجود ہیں مگر ان کی کیا قیمت ہو سکتی ہے۔ان کی قیمت اسی وقت ہوتی ہے کہ جب وہ لوگوں کے