خطبات محمود (جلد 9) — Page 376
376 دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خود بھی ایسا نہ کریں بلکہ مسجدوں میں آکر ذکر الہی کریں۔قومی کام کریں۔تعلیم دیں۔وعظ و نصیحت کریں۔درس دیں اور اگر کسی دوسرے کو دیکھیں کہ وہ کوئی ایسا کام کر رہا ہے۔جس سے مسجد کے ادب و احترام میں فرق آتا ہے۔تو اگر وہ ان کا دوست اور واقف ہے تو اسے سمجھا دیں اور اگر واقف نہیں تو کسی کے مخاطب کئے بغیر بلند آواز سے کہہ دیں۔مساجد نماز یا ذکر الہی کے لئے ہیں یا تعلیم اور قومی کاموں کے لئے ہیں۔ادھر ادھر کی باتوں کے لئے نہیں۔میں نے دیکھا ہے چونکہ مجھے مسجد میں بیٹھنا پڑتا ہے اور بعض امور کو سرانجام دینا پڑتا ہے۔اس لئے میں نے دیکھا ہے ادھر تو میں کام میں لگا ہوتا ہوں اور ادھر بعض لوگ اپنی باتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔بیشک کچھ بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو میری وجہ سے چپ رہتے ہیں۔مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا بعض ضروری کام کر رہا ہوتا ہوں۔وہ اپنی باتیں کرتے رہتے ہیں۔حتی کہ بیعت بھی اگر ہو رہی ہوتی ہے تو بھی وہ خاموش نہیں ہوتے۔ادھر بیعت ہو رہی ہوتی ہے اور ادھر وہ گپیں مار رہے ہوتے ہیں اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔حالانکہ بیعت ایک ایسا اہم معالمہ ہے کہ اگر اس کی حقیقت اور اس کی عظمت پر خود کریں تو باتیں کرنا تو در کنار دم تک لینا چھوڑ دیں۔بیعت ایک ایسا مسئلہ ہے جو بہت ہی اہم ہے۔جب ایک شخص بیعت کر رہا ہو تو فطرت صیحیحہ کہتی ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔بیعت کیا ہے؟ بیعت اقرار ہے جو ایک شخص خدا سے باندھتا ہے۔بیشک بیعت کرنے والا بظاہر ایک انسان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہے لیکن در حقیقت اس کا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔خدا دنیا میں نہیں آتا۔اس کے ہاتھ کا یہی مطلب ہے کہ وہ کسی کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دے دیتا ہے۔پس کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اقرار کرنا جسے خدا تعالیٰ مقرر کرے۔بیعت کہلاتا ہے اور جب ایک شخص بیعت کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہے تو اقرار کرتا ہے کہ میں اپنے آپ کو ، اپنی جان کو اپنے مال کو اپنے اوقات کو ، اپنی طاقت کو اپنے عزیز و اقارب کو اپنے دوستوں کو ، اپنی جائداد کو ، اپنے ملک کو غرض اپنی ہر چیز کو خدا تعالی کے لئے قربان کرتا ہوں۔دیکھو کتنا ہیبت ناک اقرار ہے کہ ایک شخص اپنا سب کچھ خدا کے لئے قربان کرتا ہے۔پاس بیٹھے ہوئے تو الگ رہے اگر گلی میں سے گزرتا ہوا کوئی شخص بھی سن پائے کہ ایک شخص اپنا سب کچھ خدا پر قربان کر رہا ہے۔تو اس کے رونگٹے گھڑے ہو جانے چاہیں مگر