خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 352

352 41 ہمارا سلسلہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے ہے (فرموده ۲۷ نومبر ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : چند دن ہوئے۔مجھے ایک دوست نے خط لکھا کہ انہیں ایک جگہ پر بعض اہل حدیث لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا اور انہوں نے شکایت کی کہ ہم موحد ہیں اور شرک کے کاموں سے بچتے ہیں اور توحید کے مسئلہ کے متعلق ہمارے اور تمہارے عقائد برابر ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں مگر باوجود اس کے ابن سعود کے معالمہ میں تم لوگ ہماری مخالفت کر رہے ہو اور حنفیوں کی تائید کرتے ہو۔جو کہ اکثر شرک سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے اور ان میں مشرکانہ رسوم رائج ہیں۔ہم تو۔احیائے سنت اور ابطال شرک کے کام کر رہے ہیں مگر تم باوجود یہی عقیدہ رکھنے کے عملی طور پر ہمارے ساتھ متفق نہیں ہوتے بلکہ مخالف چلتے ہو۔اس کے ساتھ دبے الفاظ میں یہ بھی کہا کہ اگر آپ اس کی اصلاح نہیں کریں گے۔تو پھر ہمیں بھی اپنا رویہ بدلنا پڑے گا اور مختلف خلافت کمیٹیوں کو کہنا پڑے گا کہ احمدیوں کے ساتھ اب اور طرح کا معاملہ کیا جائے۔یہ خلافت کمیٹیاں اس وقت تک آپ کے لیکچروں کی موید رہی ہیں مگر آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔اس بات کو چھوڑ کر کہ دبے الفاظ میں انہوں نے کیا کہا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوال یا وہم ان لوگوں کا اس قابل ہے کہ اس کا ازالہ کیا جائے اس لئے میں آج کے خطبہ میں یہی مضمون بیان کروں گا اور اس کے متعلق بعض ایسے امور کا ذکر کروں گا جن پر روشنی ڈالنا میرے خیال میں ضروری ہے۔یہ بات جو بیان کی گئی ہے اس کے کئی حصے ہیں جو جواب چاہتے ہیں۔مگر میں ایک ایک بات کو بیان کرتا ہوں۔سب سے پہلی بات یہ کسی گئی ہے کہ احمدیوں کو اہلحدیث کے ساتھ توحید میں اتفاق