خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 322

322 - گئے۔مگر پھر اسے خیال آیا کہ مہمان کے گا تم بھی میرے ساتھ کھاؤ۔اس پر بیوی نے کہا جب کھانا کھانے لگو تو مجھے کہنا چراغ اونچا کرو۔میں بھی اونچی کرتے ہوئے اسے بجھا دوں گی اور پھر کہیں گے جلانے کا سامان نہیں ہے اس لئے مجبوری ہے۔اس زمانے میں دیا سلائی نہیں ہوتی تھی اور لوگ آگ وغیرہ سلگا کر چراغ روشن کیا کرتے تھے۔جب کھانا رکھا گیا تو مہمان نے کہا آؤ تم بھی کھاؤ اس پر چراغ بجھا دیا گیا اور وہ ساتھ بیٹھ کر یونسی بچا کے مارنے لگے اور مہمان نے دونوں روٹیاں کھا لیں۔صبح جب وہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔تو آپ رات کے واقعہ کا ذکر کر کے ہے اور فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ میں کیوں ہنسا؟ مجھے خدا تعالیٰ نے یہ سارا واقعہ بتایا۔اور خدا بھی اس پر ہنسا۔خدا کا ہنسنا اس کی خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔چونکہ خدا اس پر ہنسا اس لئے میں بھی ہنستا ہوں اے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مہمان نوازی کے لئے اس حد تک کوشش کی جاتی تھی۔اسے مد نظر رکھ کر جلسہ سالانہ پر آنے والوں کی مہمانی کے لئے تم بھی تیار ہو جاؤ۔قادیان اور گردو نواح کے لوگوں کو جلسہ کا خرچ ادا کرنا چاہیے گو ابھی یہ حالت نہیں پہنچی۔مگر اس کی امید رکھنی چاہیے انشاء اللہ تعالٰی وہ دن آجائیں گے کہ قادیان اور اس کے قرب و جوار کے لوگ اس خرچ کو برداشت کر سکیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت دن بدن مالی قربانی میں ترقی کر رہی ہے۔ایک وقت تھا جب آمدنی پر ایک پیسہ فی روپیہ دینا بھی بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔مگر یہ ابتدائی حالت تھی۔پھر دو پیسے فی روپیہ چندہ رکھا گیا۔پھر ایک آنہ فی روپیہ اور اب یہ تحریک ہو رہی ہے کہ اس سے بھی بڑھایا جائے۔کیونکہ بجٹ پورا نہیں ہوتا۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت مالی قربانیاں کرنے میں ترقی کر رہی ہے۔اب تو خدا کے فضل سے ایک حصہ ایسا بھی جماعت کا ہے۔جو بہت بڑھ چڑھ کر قربانیاں کر رہا ہے۔صحابہ کرام مالی اور جانی دونوں قسم کی قربانیاں کرتے تھے۔اور قربانیاں کرتے ہوئے ایک لذت اور سرور محسوس کیا کرتے تھے۔یہی حال ہمارا بھی ہونا چاہیے ہم قربانیاں کریں لیکن دل میں تنگی اور پریشانی پیدا نہ ہو۔بلکہ ایک قربانی کے بعد دوسری قربانی کے لئے حرص پیدا ہو اور ہر قربانی آئندہ کی قربانیوں پر آمادہ کرنے والی ہو نہ یہ کہ ایک دفعہ کوئی قربانی کی اور پھر رک گئے۔ایسی قربانی کوئی قربانی نہیں۔قربانی وہی ہے جس سے آئندہ کے لئے تحریک پیدا ہو۔پس میں جہاں باہر کی جماعتوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ قربانیاں کرنے میں صحابہ کا نمونہ دکھائیں۔وہاں میں قادیان