خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 321

321 پس تم بھی مہمانوں کے لئے وہ سب کچھ کرو جو ان کی مہمانی کے لئے ضروری ہے اور یہ بات بھول نہ جاؤ کہ اہل قادیان کے ذمہ باہر کے لوگوں کی مہمان نوازی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت باہر سے آنے والوں کی مہمان نوازی مدینہ کے لوگوں کے ذمہ ہوتی تھی۔اب قادیان والوں کے ذمہ ہے اور در حقیقت جلسہ سالانہ کا خرچ قادیان میں رہنے والوں کے ذمہ ہے لیکن اس بات کو دیکھ کر کہ قادیان کی جماعت ابھی کمزور ہے یہ بوجھ دوسروں پر ڈالا جاتا ہے۔ورنہ سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر یہ کہنا چاہیے کہ یہ کام قادیان والوں کا ہی ہے اور قادیان والوں کو ہی کرنا چاہیے۔پس سب سے زیادہ قادیان والوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔تقریبا پندرہ ہزار روپے کے خرچ کا جلسہ سالانہ کے لئے اندازہ لگایا گیا ہے مگر میرے نزدیک سولہ ہزار سے بھی زائد خرچ ہو گا۔اندازے عموماً غلط ہو جاتے ہیں اور ان میں کمی بیشی کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے۔سو اگرچہ میرا خیال تو یہ ہے کہ اس اندازہ سے زیادہ روپیہ خرچ ہو گا۔مگر پھر بھی میں اسے سولہ ہزار ہی سمجھ لیتا ہوں۔پس اس سولہ ہزار میں سے کم از کم چار ہزار قادیان والوں کو دینا چاہیے اور چار ہزار روپیہ آٹے کی قیمت کا اندازہ ہے۔قادیاں والوں کو چاہیے کہ آٹا بہم پہنچا کر ضیافت کا فرض ادا کریں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے دراصل قادیان والوں کے ذمے تو یہ تھا کہ وہ سب اخراجات برادشت کر کے ضیافت کا حق ادا کرتے لیکن چونکہ وہ ابھی کمزور ہیں۔اس لئے چار ہزار آٹے کی رقم ان کے ذمے ڈالی جاتی ہے اور بقیہ بارہ ہزار باہر کی جماعتوں کے لئے چھوڑا جاتا ہے۔پس قادیان والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اس فرض کو پہچانیں اور ابھی باہر کی جماعتوں میں یہ تحریک پہنچنے بھی نہ پائے کہ وہ اس رقم کو فراہم کر دیں۔رسول کریم ﷺ کے عہد کا ایک واقعہ حدیثوں میں بیان ہوا ہے۔ایک دفعہ بہت سے مہمان آپ کے پاس آئے۔چونکہ آپ کے پاس ان کی مہمان نوازی کے لئے کافی سامان نہ تھا۔اس لئے آپ نے اعلان فرمایا۔کون لوگ ہیں جو ان کو اپنے اپنے گھروں میں لے جائیں۔اس پر بہت سے لوگ مہمانوں کو اپنے گھروں میں لے گئے۔ان میں سے ایک ایسا صحابی بھی تھا جو بہت غریب تھا۔وہ بھی ایک مہمان کو لے گیا۔لیکن جب وہ گھر پہنچا تو بیوی سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ صرف دو روٹیاں ہیں اور کچھ نہیں اور بچے بھوکے ہیں۔اس پر اس نے کہا۔کسی طرح بچوں کو سلا دو تاکہ روٹی نہ مانگیں اور ہم یہی روٹیاں مہمان کے آگے رکھ دیں گے۔بچے تو بھوکے ہی سلا دیئے