خطبات محمود (جلد 9) — Page 286
286 آنکھیں کھول کر دیکھے اور روحانیت کا کوئی شائبہ اس میں پایا جائے تو وہ یہ یقین کر لے گا کہ سورج کے بغیر دنیا کا گزارا ہو سکتا تھا وہ یہ تو یقین کر لے گا کہ چاند کے بغیر دنیا کا گزارہ ہو سکتا تھا وہ یہ تو یقین کر لے گا کہ بارش کے بغیر دنیا کے گزارا ہو سکتا تھا لیکن وہ یہ ہرگز یقین نہیں کرے گا کہ حضرت مسیح موعود کے بغیر ایک دم بھی گزارا ہو سکتا تھا۔لوگ کہتے تو ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگر آپ نہ آئے ہوتے تو نہ معلوم - کہاں سے کہاں پہنچ جاتے اور میرے لئے تو آپ کی صداقت کی یہی دلیل کافی ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہ آتے تو ہم لوگوں کی ایسی بدتر حالت ہوتی جو خیال میں بھی نہیں آسکتی۔خدا جانے ہم کن کن گناہوں اور بدیوں میں پھنسے ہوتے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی احسان ہے کہ ہمیں جو کہ ہلاکت کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے ہاتھ سے پکڑ کر تباہی اور بربادی سے بچا لیا اور ہماری پیدائش کی جو غرض ہے کہ خدا کا قرب پائیں اس کے حصول کے نہ صرف طریق بتائے بلکہ خدا تعالیٰ کے جلوہ کا مشاہدہ بھی کرا دیا۔غرض حضرت مسیح موعود نے ہمیں جس مقام پر کھڑا کر دیا ہے ہمارے لئے آپ کی بعثت کی ضرورت کا اندازہ لگانے کے لئے وہی کافی ہے اور دوسرے لوگ بھی اگر غور کریں تو انہیں اس کی اہمیت معلوم ہو سکتی ہے لیکن اس کے دیکھنے کے لئے آنکھ چاہیے۔دیانتداری کے ساتھ اگر کوئی شخص اس پر غور کرے گا۔تو اسے سب کچھ مل جائے گا اور سب باتیں جن کی اس وقت دنیا کو روحانیت کے حصول کے لئے ضرورت تھی آپ کی تعلیم میں سے مل جائیں گی۔مگر یاد رکھو نبی ہمیشہ بیج ڈال دیتا ہے اس لئے اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ ہر مضمون پر اسے علیحدہ لکھی ہوئی کتاب مل جائے تو یہ مشکل ہے۔قرآن کریم نے بھی ہر مضمون پر علیحدہ کتاب نہیں رکھی۔اس میں بھی بعض موقعوں پر بعض مسائل اجمالی طور پر اور بعض اشارات سے سمجھائے گئے ہیں۔پس اگر کوئی یہ چاہے کہ بنی بنائی علیحدہ علیحدہ کتابیں اسے ہر مضمون پر مل جائیں۔تو یہ اس کی غلطی ہے۔ہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں تمام مسائل بیان فرما دیئے ہیں اور بے شمار علوم ان میں جمع کر دیئے ہیں۔انسان اگر ان پر غور کرے۔تو گہرے سے گہرے مسائل کا پتہ ان سے لگ جاتا ہے اور پھر عجیب معارف و نکات کا بھی انکشاف ہوتا ہے۔میں نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ براہین احمدیہ کو مسلسل پڑھ جاؤں لیکن ایسا نہیں کر سکا۔جب بھی دو چار دس سطریں پڑھیں۔تب ہی ایسے گرے اور لمبے خیال میں پڑ گیا۔اور اس قدر معارف اور نکات