خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 285

285 بھی یہ نہ سمجھ سکے۔غرض جب فیح اعوج کا وقت شروع ہو گیا اس وقت یہ کیونکر سمجھ لیتے۔قرون اولی کا وقت تو ایسا تھا جیسے سورج نکلا ہوا ہو۔اور چاروں طرف روشنی ہی روشنی ہو لیکن یہ مولوی اس روشنی میں بھی اس نور کو نہ دیکھ سکے۔بعد ازاں جب سورج ڈوب گیا اور فیج اعوج کا زمانہ شروع ہو گیا اس میں بھلا کیونکر اس بات کو دیکھ سکتے۔ان کی مثال ایک چور اور مراثی کی ہے۔ایک دفعہ مراثی کے ہاں چور گھس گیا۔مراثی کے گھر میں کچھ نہ تھا۔چور نے ہر چند تلاش کیا مگر کچھ نہ ملا۔آخر ایک جگہ کچھ سفید سی چیز ا سے نظر آئی۔اس نے سمجھا آتا ہے یہی لے چلو۔اس کے لئے اس نے چادر بچھائی۔لیکن دراصل روشنی تھی جو کسی سوراخ سے اندر پڑ رہی تھی۔مراثی بھی جاگتا تھا اور سب کچھ دیکھ رہا تھا لیکن چونکہ اس کے گھر میں تھا ہی کچھ نہیں۔اس لئے وہ خاموش رہا لیکن جس وقت چور نے روشنی کو آٹا سمجھ کر چادر بچھائی تو وہ بول اٹھا اور کہنے لگا جمان سانوں دن نوں ایتھے کچھ نہیں لبھ داتینوں رات نوں ایتھے کی لبھے گا" یعنی ہمیں تو اس گھر میں دن کو کچھ نہیں ملتا کہ کھائیں پئیں۔تمہیں رات کو کیا ملے گا۔اس پر چور بھاگ گیا اور چادر بھی وہیں چھوڑ گیا۔مراثی نے وہ چادر اٹھالی اور کہا ”جمان جو ہوئے کچھ دے ہی جاناں سی۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جب نور نبوت جلوہ گر تھا تب ان کو کچھ نہ ملا۔تو فیح اعوج کے زمانہ میں کیا مل سکتا تھا۔جو روشنی کا زمانہ تھا اس میں ان کے گھروں سے کیا ملتا تھا جو اس وقت کچھ امید رکھی جائے جبکہ اندھیرا چھا گیا تھا۔پس کچی توحید تیرہ سو سال کے عرصہ میں سوائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کوئی نہیں لایا۔لوگ لاکھ عقل و تدبیر سے کام لیتے تو بھی ایسی توحید پیش نہیں کر سکتے تھے۔یہ وہ کام ہے جو توحید کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا اور توحید کے متعلق تعلیم دی ہے۔اس وقت میں نے بطور نمونہ اس کا ذکر کیا ہے۔ورنہ اس پر سینکڑوں خطبے کے جا سکتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی۔تو یتلوا عليهم ایتک کے مفہوم پر اور اس کے دوسرے حصوں کے متعلق اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ اس بارے میں کیا ہے اس کی بابت انشاء اللہ تعالیٰ پھر بتاؤں گا کہ وہ کیسے کیسے ضروری کام تھے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں آکر کئے۔پس یہ غلط خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی ضرورت نہ تھی۔اگر کوئی