خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 283

283 علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی کام تھا۔کہ توحید کا اصل اور اس کے اصول اور اس کی غرض بیان فرماتے۔پس یہ فرق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور گزشتہ صوفیاء حضرت سید عبدالقادر جیلانی وغیرہ کے درمیان توحید بیان کرنے کے متعلق ہے۔اب اس بات پر غور کرنے سے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کی ہے۔توحید چیز ہی اور بن گئی۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں جتنا جتنا اس دنیا کی چیزوں پر غور کرو گے۔تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ تمہاری خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور اس لئے بنائی گئی ہیں کہ تمہیں نفع پہنچائیں۔حتی کہ انسان بھی ایک دوسرے کی خدمت اور نفع کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔وہ اپنی ذات سے بھی نفع اٹھاتا ہے اور دوسروں کو بھی نفع پہنچاتا اور خود بھی دوسروں سے نفع حاصل کرتا ہے۔یہ بات عام لوگوں کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ خواص کا بھی یہی حال ہے۔ایک نبی ہی کو لے لو۔اگر وہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے تو وہ خود بھی دوسروں سے نفع اٹھانے اور دوسروں کی مدد حاصل کرنے کا محتاج ہوتا ہے۔روٹی پکانے میں وہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔کپڑے سلانے میں وہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔حجامت بنوانے میں وہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے جنگوں میں پہرہ کے لئے وہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔پھر ادنی اونی چیزیں ہیں۔ان میں بھی وہ دوسروں کی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔غرض دنیا کی ہر چیز ہمارے نفع کے لئے ہے۔اور اس نفع رسانی میں ایک دوسرے کا انسان محتاج ہے۔پس جب دنیا کی ہر چیز ہمارے نفع کے لئے پیدا کی گئی ہے تو ہم کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ در حقیقت توحید کا مسئلہ اسی لئے ہے کہ ہم ان سب چیزوں کو اسباب سمجھیں اور اصل مقصد خدا کو پانا ہو۔وہی ہر وقت ہر حالت اور ہر بات میں ہمارے مد نظر رہے۔وہ لوگ جو دنیا کی نفع رساں چیزوں کو دیکھ کر ان کی پرستش شروع کر دیتے اور انہیں خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ان سے بڑھ کر نادان کون ہو سکتا ہے۔وہ مسبب الاسباب کو چھوڑ کر اسباب کے پیچھے جا پڑتے ہیں اور اس سے بڑھ کر اور کوئی گمراہی نہیں ہے۔ہندو گنگا کی پرستش کرتے ہیں۔حالانکہ وہ ان بے شمار چیزوں میں سے ایک ہے۔جو خدا نے انسانوں کے آرام کے لئے بنائیں اور اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ خدا کی بھی کوئی چیر پھاڑ کر سکتا ہے۔گنگا سے نہر نکالی گئی ہے۔جب گنگا سے نہر نکالنے لگے تو ہندوؤں نے بہت شور مچایا کہ دیکھو جی مائی جی کا پیٹ پھاڑنے لگے ہیں۔خدا کی قدرت چند بار کوشش کی گئی مگر گنگا میں سے نہر نہ نکل سکی۔اس پر ہندوؤں نے کہنا شروع کر دیا ہم نہ کہتے تھے۔گنگا مائی کا پیٹ پھاڑا نہیں جا سکتا۔لیکن آخر کار کاٹلی نام ایک انگریز نے اس میں سے نہر کاٹ