خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 282

282 چونکہ ان کے علم کسی تھے۔اس لئے وہ توحید کو اس رنگ میں نہ پیش کر سکتے تھے۔اور نہ انہوں نے کیا۔البتہ صوفیاء نے اسے کیا ہے مگر وہ بطور اصول کے نہیں۔اب اگر کوئی اس کے بعد کہے کہ فلاں نے توحید کو پیش کیا یا فلاں نے اسے اس طور پر بیان کیا۔یا اصول ہی بتائے تو اول تو یہ ناممکن ہے۔لیکن اگر مان بھی لیا جائے تو پھر بھی وہ حضرت مسیح موعود کے برابر نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ صرف ایک صداقت کو پانے والا ہو گا نہ کہ اصل کو پیش کرنے والا۔مثلاً نیوٹن نے تھیوری نکالی کہ زمین میں کشش ہے اور وہ ہر ایک شے کو اپنی طرف کھنچتی ہے اسے یہ بات اس طرح معلوم ہوئی کہ ایک دفعہ وہ باغ میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیب گرا اور وہ زمین پر آ پڑا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک اور سیب گرا وہ بھی زمین پر آپڑا۔اس پر اس کی توجہ اس طرح پھری کہ کیا وجہ ہے کہ یہ سیب زمین پر ہی گرتے ہیں کیوں نہیں اوپر چلے جاتے یا کیوں نہیں دائیں یا بائیں پڑتے۔اس طرف توجہ ہونے کے بعد اس نے اس پر مزید غور کیا۔اور آخر اس نتیجہ پر پہنچا۔یہ زمین ہی میں کوئی ایسی خاصیت ہے کہ وہ اشیاء کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔اس سے اس نے کشش ثقل کی تھیوری قائم کی اور اب بعض سائنس دان کہتے ہیں کہ ساری سائنس کی بنیاد اسی پر ہے مگر خیراب اگر کوئی شخص سیب کو گرتا دیکھ کر یہ کہے کہ زمین پر آپڑا کیونکہ بھاری چیز ہمیشہ زمین پر گرتی ہے۔تو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے زمین پر گرنے کی وجہ معلوم کر لی بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اسے یہ معلوم ہو گیا کہ ہر وزن دار شے زمین پر گرتی ہے کیونکہ وہ صرف حال بیان کرتا ہے۔یہ اصل کہ کیوں گرتی ہے۔اسے نیوٹن نے ہی دریافت کیا تھا اور اسی نے اس ”اصل" کو بیان کیا۔اس کے بعد اب جو شخص بھی کسی وزن دار شئے کو زمین پر گرتے دیکھ کر یہ کہے گا کہ ہر بھاری شے زمین پر گرتی ہے۔وہ حال بتانے والا ہو گا۔اور نیوٹن کی طرح اصل کو معلوم کرنے والا نہ ہو گا۔سید عبد القادر جیلانی نے اپنے آپ کو اپنے حال کی کیفیات بیان کرنے تک رکھا۔کیونکہ وہ مامور نہیں تھے۔مجدد تھے اور مجددیت کے مقام پر کھڑے تھے۔اس لئے انہوں نے اپنے اندر کی کیفیت بیان کر دی کہ یہ کچھ میرے اندر گزر رہا ہے اور میں نے یہ کچھ دیکھا ہے۔وہ مجدد تھے۔مخاطبہ مکالمہ الیہ سے مشرف تھے اور اپنے زمانہ میں لوگوں کے لئے رحمت تھے۔مگر توحید کو اصولی طور پر بیان کرنا ان کے لئے نہ تھا۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے رکھا گیا تھا۔جو مامور کر کے بھیجے گئے۔اس لئے آپ سے پہلے لوگ ایسا نہ کر سکتے تھے کہ توحید کے اصول بھی بیان کرتے توحید کا حال اور خاص کر وہ حال جو ان کے ساتھ گزر رہا تھا۔وہی بیان کر سکتے تھے۔اور یہ حضرت مسیح موعود