خطبات محمود (جلد 9) — Page 269
269 بات باہر نہ رہ گئی۔لیکن افسوس کہ نبوت سے بعد کی وجہ سے وہ تعلیمیں تو رہ گئیں جو پہلے تھیں اور جو اسلام نے تعلیم دی تھی وہ مٹ گئی اور مسلمان بھی مختلف قسم کے شرکوں میں مبتلا ہو گئے۔مسلمانوں میں سے موحد کہلانے والے اپنے آپ کو شرک سے بالکل پاک کہتے ہیں۔لیکن کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص موحد کہلائے۔خدا تعالٰی کو ایک سمجھے اور پھر یہ بھی عقیدہ رکھے کہ سینکڑوں سالوں سے حضرت عیسی زندہ آسمان پر بغیر کسی جسمانی تغیر کے جوں کے توں بیٹھے ہیں۔پھر کیا ایسا شخص موحد کہلا سکتا ہے۔جو یہ مانے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردے زندہ کیا کرتے تھے۔حالانکہ مردے زندہ کرنا صرف خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔پھر کیا اسے مشرک نہ کہا جائے گا۔جو اس بات کو مانتے ہوئے کہ خلق کی صفت صرف خدا تعالی ہی کی ہے۔یہ بھی مانے کہ حضرت عیسی پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔یہ عقائد رکھنے والے لوگ ہرگز موحد نہیں کہلا سکتے بلکہ وہ بھی شرک میں مبتلا ہیں۔کس قدر رنج اور افسوس کا مقام ہے۔کہ ہندو اور عیسائی وغیرہ جو حقیقتاً توحید کے قائل نہیں اور جن کے مذہب میں شرک کی تعلیم پائی جاتی ہے۔وہ بھی اپنے آپ کو توحید پرست کہنے لگ گئے ہیں لیکن مسلمان جن کے مذہب میں سب سے زیادہ زور توحید پر دیا گیا ہے۔مشرکانہ عقائد میں پھنس کر توحید سے غافل ہو گئے۔چونکہ علی الاعلان شرک کی تعلیم کو کوئی قبول نہیں کر سکتا۔اس لئے ہندو اور عیسائی اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ لوگ ہمارا مذہب قبول نہیں کریں گے۔اپنے مشرکانہ عقائد کے ساتھ یہ دعوئی بھی رکھتے ہیں کہ ہم توحید پرست ہیں مگر مسلمانوں کی حالت اس کے الٹ ہے۔ان کا مذہب شرک پر نہیں کہ انہیں بناوٹی طور پر توحید کا ذکر کرنے کی ضرورت ہو بلکہ ان کا مذہب توحید پر ہے لیکن مسلمان اسلام کی اس پاک اور مقدس تعلیم کو اپنے باطل عقائد سے بری شکل میں پیش کر رہے ہیں۔دیگر مذاہب کی بنیاد چونکہ شرک پر ہے۔اس لئے ان کے پیرو اپنی فطرت کو تسلی دینے کے لئے مشرکانہ تعلیم کو ہی کہتے ہیں یہ بھی توحید ہے اور لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کہہ دیتے ہیں۔ہمارا مذہب بھی توحید پر ہے مگر مسلمانوں کو اپنی تسلی کے لئے یا دوسروں کو خوش کرنے کے واسطے فرضی طور پر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارا مذہب بھی توحید پر ہے بلکہ مسلمانوں کا مذہب فی الواقع ہے ہی توحید پر اور اگر خالص توحید کسی مذہب نے پیش کی ہے۔تو اسلام نے ہی پیش کی ہے اور اسی نے ایسے اصول بتائے ہیں کہ آج بھی اگر ساری دنیا انہیں سمجھ لے۔تو شرک کا نام و نشان مٹ سکتا ہے۔مگر افسوس مسلمانوں کی حالت دیگر مذاہب کے لوگوں کے الٹ ہے۔وہ شرک پر تھے