خطبات محمود (جلد 9) — Page 268
268 جاتے ہیں اور شرک واضح طور پر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور مسلمانوں کے نہ صرف اعمال بلکہ عقیدہ بھی اس کو سمجھتے ہوئے ہر قسم کے شرک سے پاک ہو جاتا ہے۔شرک کی لوگوں نے مختلف تعریفیں کی تھیں۔بعضوں نے تو یہ کی تھی کہ خدا جیسی اور ذات ماننا یہ شرک ہے مگر ایسے لوگ بھی نکل آئے۔جو خدا کی طرح تو کسی اور وجود کو نہیں مانتے تھے مگر یہ کہتے تھے بعض ایسے وجود ہیں جو خدا سے طاقتیں پاکر دنیا میں آئے اور انہوں نے اس کی قدرتوں کا اظہار کیا۔اس لئے ہم ان کی پرستش کرتے ہیں۔کیونکہ ان سے خدا کی صفات اور قدرتیں اور طاقتیں ظاہر ہوئیں۔جب ان لوگوں نے جو توحید کے قائل تھے۔یہ دیکھا تو انہوں نے توحید کے لئے یہ قرار دیا ہے کہ خدا کے سوا کامل عبودیت کسی کے سامنے نہیں کرنی چاہیے اور اگر کوئی کرتا ہے تو وہ شرک کرتا ہے۔مگریہ تعریف بھی ناقص رہی۔کیونکہ ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے جو خدا کے سوا کسی کے آگے کامل عبودیت کا تو اظہار نہ کرتے تھے۔مگر خدا کی صفات اوروں کو دیتے تھے۔یہ دیکھ کر شرک کی یہ تعریف بنائی گئی کہ خدا کی صفات کسی اور کو دینا شرک ہے مگر اس میں بھی اختلاف ہو گیا کہ خدا کی صفات دوسرے کو دینے سے کیا مراد ہے مثلاً خدا کی صفت ہے کہ وہ سنتا ہے سب مانتے آئے ہیں کہ وہ سنتا ہے اب کیا یہ کہنا کہ انسان بھی سنتا ہے۔یہ خدا کی صفت اسے دینا ہے؟ اسی طرح خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کیا یہ کہنا کہ کوئی اور بھی دیکھتا ہے شرک ہے؟ یا خدا تعالیٰ رزق دیتا ہے تو کیا یہ کہنا کہ فلاں بھی رزق دیتا ہے شرک ہے؟ پھر اگر کہا جائے کہ جس طرح خدا تعالیٰ سنتا ہے۔دیکھتا ہے رزق دیتا ہے۔اسی طرح کسی اور کے متعلق کہنا کہ وہ سنتا دیکھتا اور رزق دیتا ہے تو یہ شرک ہے۔لیکن مشرک کہتے ہیں ہم جن کی پرستش کرتے ہیں۔ان کے متعلق ہم کب کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرح دیکھتے سنتے اور رزق دیتے ہیں۔ہم بھی یہ مانتے ہیں کہ خدا جس طرح سب کچھ دیکھتا ہے۔اس طرح دوسرے نہیں دیکھتے۔خدا ہی سب کا محافظ اور سب کا متصرف ہے۔اس کی طرح اور کوئی نہیں۔سب کچھ اس کے قبضے میں ہے ہم کب کہتے ہیں کہ سب کچھ بتوں کے قبضے میں ہے ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ خدا نے اپنی صفات اور طاقتوں میں سے کچھ ان بتوں اور معبودوں کو دے دی ہیں۔اس طرح شرک کی یہ تعریف بھی کہ خدا کی صفات میں کسی اور کو شریک کرنا شرک ہے نامکمل اور ناقص ہو گئی۔غرض شرک کی مختلف زمانوں میں مختلف تعریفیں ہوتی رہی ہیں۔اور لوگ جیسا جیسا ان کو ضرورت پڑتی گئی شرک کی تعریف کو ڈھالتے گئے۔اس لئے شرک کی مختلف تعریفیں ہو گئیں۔یہاں تک کہ قرآن کریم دنیا میں آیا اور اس نے شرک کی ایسی تعریف جتائی۔جس سے کوئی