خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 267

267 33 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کارنامے (فرموده ۲۵ ستمبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے اس امر کے متعلق پچھلے جمعہ کے خطبہ میں کچھ بیان کیا تھا کہ بتلوا عليهم اینک کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق کیا کچھ تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی۔وہ تعلیم قرآن کریم میں تو ہے اور رسول اللہ ﷺ نے دنیا کے سامنے رکھی تھی۔لیکن بعد کے لوگ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا۔نبوت کے بعد کی وجہ سے اسے بھول گئے تھے اور باوجود اس کے کہ علماء موجود تھے۔باوجود اس کے کہ فاضل موجود تھے۔باوجود اس کے کہ پیر موجود تھے۔باوجود اس کے کہ صوفی موجود تھے۔مگر پھر بھی وہ قرآن شریف سے اس کو نکال نہ سکے اور دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکے۔نیز میں نے بتایا تھا کہ جب کہ ایسی تعلیم بھی موجود تھی اور جب کہ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اپنے آپ کو علماء میں سے گنتے تھے اور فاضل یا پیر یا صوفی یا مولوی کہلاتے تھے اور پھر بھی وہ کچھ نہ کر سکے۔اور دنیا کے سامنے اس تعلیم کو قرآن کریم سے اخذ کر کے پیش نہ کر سکے۔دنیا ان کے سامنے تباہ ہو رہی تھی مگر وہ کچھ نہ کر سکے۔دنیا ان کے دیکھتے دیکھتے شرک میں مبتلا ہوتی چلی گئی مگر وہ اس کا کوئی علاج نہ کر سکے۔تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں ضرورت تھی کہ خدا کی طرف سے کوئی آئے تا قرآن شریف سے اس تعلیم کو پیش کرے۔آج میں پھر اسی مضمون کے ایک حصہ توحید باری تعالیٰ کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔پہلے میں نے تفصیلات بیان کی تھیں اور کہا تھا کہ توحید کا مسئلہ ایک نہایت ہی اہم مسئلہ ہے لیکن علماء اس کام کو نہ کر سکے یا یہ کہ خود اس کے برخلاف تعلیم دیتے تھے۔آج میں توحید کی وہ تعریف بیان کروں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے پیش کی ہے اور وہ ایسی ہے کہ اس کے ساتھ تمام شرک مٹ