خطبات محمود (جلد 9) — Page 253
253 پہنچایا جائے اور پھر حجازی لوگ تو نجدیوں کے باغی نہیں ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مکہ اور مدینہ کی حرمت یکساں ہے ۲۔اس پر حملہ کرنا درست نہیں مگر وہ حد لیشوں سے واقفیت رکھتے ہوئے اور اہلحدیث کہلا کر حملہ کرتے ہیں۔یہ صرف ان کی نفسانیت ہے اور کوئی شخص نہیں جو ان حالات کے ماتحت یہ کہے کہ ان کی یہ کارروائی درست ہے۔ہرگز کوئی عقلمند اسے تسلیم نہیں کر سکتا کہ اہل مدینہ نے نجدیوں کے خلاف بغاوت کی ہے لیکن اگر باغی بھی بغاوت کریں تو بھی میں کہوں گا کہ وہاں گولہ باری نہ کی جائے اور کسی اور ذریعہ سے ان کو مفتوح کیا جائے اور قابو میں لانے کی کوشش کی جائے۔مثلا ان کی رسد بند کر دی جائے۔ان کا پانی بند کر دیا جائے ان کی دوسری ضروریات کی بہم رسانی بند کر دی جائے اور ایسے طریق استعمال کئے جائیں جو مقامات مقدسہ کو تو نقصان نہ پہنچائیں لیکن ان لوگوں کو مطیع کر دیں ان باتوں کو دیکھتے ہوئے جانتے ہوئے اگر کوئی ایسا نہ کرے تو ظاہر ہے کہ اس کے اندر رسول کریم ﷺ کی محبت نہیں بلکہ نفسانیت ہے جو اسے حملہ کرنے پر اکسا رہی ہے۔نجدی جو کچھ کر رہے ہیں۔یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جو معمولی ہو بلکہ یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں نہایت ہی تاریک واقعہ ہے اور اس کے اثرات دیر پا اور ایسے خطرناک ہیں کہ جن کا علاج بعد میں کچھ نہیں ہو گا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ پہلے زمانوں میں بھی ایک دوسرے پر حملے ہوتے تھے لیکن وہ حملے تیروں اور منجنیقوں سے ہوتے تھے اور ان سے اس قدر نقصان ہونے کا احتمال نہ ہوتا تھا جتنا کہ آج کل کے گولوں سے ہے۔اخباروں میں شوکت علی صاحب کے اس بیان کو پڑھ کر تو مجھے بہت ہی تعجب ہوا کہ جو لوگ مدینہ پر قابض ہیں انہیں کی گولیاں روضہ مبارک اور مسجد نبوی وغیرہ مقدس مقامات پر لگتی ہوں گی۔میں حیران ہوں کہ شوکت علی صاحب کو یہ کہنے کی جرات کیونکر ہوئی۔میرے نزدیک اور نہ صرف میرے نزدیک بلکہ تمام ان مسلمانوں کے نزدیک بھی جو رسول کریم ﷺ سے محبت رکھتے ہیں۔نجدیوں کے بالمقابل شریف کے خاندان نے پھر بھی شرافت دکھائی جو یہ کہہ کر مکہ نجدیوں کے حوالہ کر دیا کہ ہم مکہ پر لڑائی نہیں کرتے لیکن تعجب ہے۔نجدیوں کی تائید میں کھڑے ہو کر شوکت علی صاحب مکہ کے احترام کی وجہ سے لڑائی نہ کرنے والوں اور مکہ کا قبضہ یونہی دے دینے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مدینہ پر آپ گولہ باری کرتے ہیں۔کیا اس شخص کے متعلق ایسا تسلیم کیا جا سکتا ہے۔جس نے ایک وقت محض ان مقامات کے احترام کی خاطر اور خاص کر ان مقامات کے احترام کی