خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 232

232 دفعہ مبلغین کی ضرورت بھی پڑ جاتی ہے اور مرکز کی مدد کی بھی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے لیکن ہر وقت مرکز کی طرف نگاہ رکھنا کہ وہاں سے ہی کوئی آدمی آئے۔تو یہ کام ہو بالکل نا مناسب ہے اور نااہل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔بیشک بعض میوے سخت ہوتے ہیں جو ہاتھ سے نہیں ٹوٹتے بلکہ پتھر سے توڑے جاتے ہیں لیکن ہمیشہ ہمیش جو دوسرے آدمیوں کا منہ دیکھتے ہیں وہ نہ ہاتھوں سے کسی میوہ کو توڑ سکتے ہیں اور نہ پتھروں سے۔ہماری جماعت کو ایسا نہیں چاہئے بلکہ اس کے لئے تو یہ ہونا چاہئے کہ وہ ہر میوہ کو توڑنے والی بنے خواہ وہ میوہ ہاتھ سے ٹوٹے اور خواہ پتھر سے۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ عام طور پر اس بات پر کار بند ہو رہے ہیں کہ ذرا ضرورت پڑی تو جھٹ پر قادیان مدد کے لئے لکھ دیتے ہیں اور خود اپنے آپ کو اس قابل بنانے کی کوشش نہیں کرتے کہ اپنی ضرورتوں کو آپ پورا کر سکیں اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ کام ہمارے اپنے کرنے کا ہے۔یہ نقص ہے جس سے ہم شیطان کا سر کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور یہ کمی ہے جس کے باعث ہم خدا کا جلال دنیا میں پورے طور پر ظاہر نہیں کر سکے۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسے ایسے موقعوں پر جب کہ انہیں کسی غیر کی مدد کی حاجت محسوس ہوتی ہے۔خود کام کرنے کی اہمیت پیدا کریں۔مبلغ کیا ہے۔میں نے ایک مثال کے ذریعہ بتایا تھا کہ وہ ایک ایسا وجود ہے کہ اس کی مثال نالی کی سمجھ لو جو تھوڑی دور جا کر خشک ہو جاتی ہے۔ریتلے میدان سے ایک نالی نکال کے لے جاؤ تھوڑی دور جا کر وہ خشک ہو جاتی ہے اور ریت ہی میں جذب ہو جاتی ہے لیکن کتنی بڑی ریت ہو آسمان سے گرنے والا پانی دریا بہا دیتا ہے اور نہ خشک ہوتا ہے اور نہ جذب۔پرسوں میں کشتی میں سیر کے لئے گیا۔میرے ساتھ میری چھوٹی لڑکی تھی۔اس نے پوچھا کہ یہ پانی کہاں سے آیا مینہ تو قطرہ قطرہ برستا ہے پھر یہ اتنا پانی کدھر سے آگیا تو یہ بارش ہی کا کام ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ قطرہ قطرہ کر کے برستی ہے۔پھر بھی دریا بہا دیتی ہے۔ایک انچ اگر بارش ہو تو ایک میل تک گزگز اونچا پانی جمع ہو جاتا ہے۔یہاں نشیب جگہ ہے۔اس لئے سارا پانی یہاں جمع ہو جاتا ہے۔تو یہ بارش ہمارے لئے نمونہ ہے کہ کس طرح وہ گڑھوں کو بھر دیتی ہے اور کس طرح وہ خشک اور ریتلے میدانوں میں دریا بہا دیتی ہے۔ہماری جماعت کے افراد کی بارش کے قطروں کی مثال ہے اور مبلغ کی نالی کی۔کتنی چوڑی بھی نالی ہو۔وہ سیراب نہیں کر سکتی۔لیکن بارش کے قطرے چونکہ ہر جگہ پر گز رہے ہوتے ہیں۔اس لئے دریا تو دریا وہ طوفان نوح کا نظارہ بھی پیش کر سکتے ہیں۔بیشک زمین کو سیراب کرنے کے لئے