خطبات محمود (جلد 9) — Page 18
18 کرتی ہے۔لوگ تو کہیں گے کہ وہ بڑی عصمت والی بی بی تھی کہ اس نے مرنا منظور کر لیا مگر مرد کے سامنے نہ ہوئی۔مگر خدا کا رسول کہتا ہے کہ اگر اس وقت جب کہ کوئی عورت جنوانے والی نہیں ملتی اور مرد ملتا ہے اور اس سے وہ پردہ کرتی ہے اور پھر وہ مرجاتی ہے تو وہ خود کشی کی موت مرتی ہے۔ایک حد تک جذبات سے کام لینا اور ان کا اظہار ضروری بھی ہوتا ہے بشرطیکہ ان کے اظہار میں نقصان نہ ہو۔لیکن نقصان کی صورت میں جو ان کو دباتا نہیں اور عقل کے دائرہ کو ختم کر دیتا ہے۔وہ سخت غلطی کرتا ہے۔مجھے اس خطبہ کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ایک دوست نے مجھے رقعہ دیا ہے کہ میرے گھر میں میت ہوئی اور لوگوں میں بہت نفرت پائی گئی اور جنازہ بھی بہت دور کھڑے ہو کر پڑھا گیا۔میرے نزدیک یہ رقعہ محض جذبات کے ماتحت لکھا گیا ہے۔عقل اور فہم کا اس میں کچھ دخل نہیں۔اگر واقعہ میں طاعون نہ بھی ہو جیسا کہ انہوں نے رقعہ میں لکھا ہے اور بعض ڈاکٹروں نے بھی کہا ہے۔گو میرے نزدیک تو طاعون ہی تھی۔ایک ڈاکٹر نے بھی میرے سامنے اس کے متعلق ذکر کیا اور میں نے تردید کی اور مجھے یقین ہے کہ اس کو طاعون کے سوا کوئی اور مرض نہ تھا۔جس قسم کے حالات انہوں نے بیان کئے ہیں وہ طاعون پر ہی دلالت کرتے ہیں کیونکہ طاعون کے کیڑے مشابہ امراض میں بھی داخل ہو جاتے ہیں۔وزیر آباد کا ایک رئیس باغ سے پھول توڑنے لگا اور اس کی انگلی میں کانٹا چبھ گیا اور اسی سے وہ مر گیا۔تمام ڈاکٹروں نے یہی رائے دی کہ طاعون کا زہر اس زخم کے راستہ سے سرایت کر گیا تھا۔تو وبائی امراض بسا اوقات مشابه شکل اختیار کر لیتی ہیں۔خصوصاً ایسی مہلک مرض کہ جس سے انسان ترت پھرت مرجائے۔اس میں تو اس مرض کے وبائی ہونے میں شبہ ہونے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی بعض حالات میں شبہ ہوتا ہے ایسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ شبہ درست ہو اور ممکن ہے کہ غلط ہو۔اگر شبہ کی صورت میں بھی کوئی دوست احتیاط کریں تو طبی طور پر اور شرعی طور پر بھی ان کو اختیار ہے۔ہاں جب تک تو کوئی بیمار ہے اس وقت تک تو یہ ضروری بلکہ فرض ہے کہ مریض کی پوری طرح خبر گیری کی جائے اور جہاں تک ممکن ہو احتیاط کا پہلو بھی برتا جائے۔اگر کوئی ڈاکٹر مریض کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے۔کیونکہ اس نے ذمہ داری لی ہے کہ میں مریضوں کو دیکھوں گا اور ان کا علاج کروں گا۔اس لئے جتنا بھی قریب سے قریب ہو کر بیمار کے علاج کے لئے مفید سمجھتا ہے۔وہ قریب ہو کر علاج کرے ہاں وہ احتیاط کرے۔مثلاً ننگے