خطبات محمود (جلد 9) — Page 19
19 حصوں پر ایسی دوائیں لگائے جن کو وہ سمجھتا ہے کہ طاعونی اثر کو زائل کرنے والی ہیں یا ایسی دواؤں سے دھوئے اور اعضاء کو صاف کرے جن کے ساتھ صاف کرنے سے کیڑوں سے جان بچ سکتی ہے۔اگر وہ ایسے مریضوں کو نہیں دیکھتا اور ان کے علاج میں غفلت کرتا ہے تو وہ اپنے فرض منصبی کو ادا نہیں کرتا۔لیکن اگر کوئی مریض اس مرض سے مرجاتا ہے یا کسی کو اس کے متعلق اس مرض کا شبہ بھی ہے اور وہ احتیاط کرتا ہے تو اس کو اس احتیاط سے روکنا غلطی ہے۔کئی ایسے کمزور دل ہوتے ہیں جو محض وہم سے ہی مرجاتے ہیں۔ایسے لوگوں کو زور دے کر آگے کرنا ان کو محمد آموت کے منہ میں ڈالنا ہے۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ میں جس بیمار کو دیکھوں وہی بیماری مجھے ہو جاتی ہے۔اس تکلیف اور صدمہ کو میری طبیعت برداشت نہیں کر سکتی۔دل کی کمزوری بھی ایک بیماری ہے بعض آدمی کسی کا آپریشن ہوتا دیکھ لیں تو وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں۔اب ایسے شخص کو اگر مجبور کیا جائے تو سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ بھی مر جائے گا۔اس لئے اگر کسی نے دل میں وہم بھی ہے تو ہمیں ان کے وہم کا بھی لحاظ رکھنا پڑے گا۔بہت باتیں اعصاب سے تعلق رکھتی ہیں لیکن نتائج ان کے ظاہر ہوتے ہیں۔جذبات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔مگر اس وقت تک جب کہ عقل روک اور مانع نہ ہو۔اس لئے مناسب احتیاط کے ساتھ میت کو دفن کر دینا گلنے سڑنے اور جانوروں سے بچانا ایسی ذمہ داری اگر انسان ادا کر دے تو پھر قطع تعلقات کا خطرہ نہیں رہتا۔ورنہ جب لوگ اس قسم کا نظارہ دیکھیں گے۔تو وہ پھر زندوں کی فکر کی بھی کچھ ضرورت نہ سمجھیں گے۔اس لئے جس حد تک تو جذبات تعلقات کے قیام کا موجب ہو سکتے ہیں عقل کے مطابق ان کا اظہار ضروری ہوتا ہے۔ورنہ ان کو دبا دنیا ہی ضروری ہوتا ہے۔ہماری جماعت کو دونوں پہلوؤں پر پورے طور پر کامل اور مکمل ہونا چاہیے۔بیمار اور زندوں کے حق میں ہمیں ایسے ایثار اور قربانی سے کام لینا چاہیے۔کہ ایک جان کے بچانے کے لئے پانچ یا چھ اور جانیں بھی خطرہ میں پڑ جائیں تو کچھ پرواہ نہ کرنی چاہیے۔ہاں جو ظاہر آداب اور احتیاطیں ایسے مریض کی تیمارداری کی ہیں عقل یہ نہیں کہتی کہ ان کو اپنے جذبات کے استعمال کے وقت کام میں نہ لاؤ پھر میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کو محبت اخلاص اور ہمدردی کو بڑھانا چاہیے اور ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔اور اگر کوئی بھائی قضا الہی سے کسی تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو اس کی پوری پوری ہمدردی کریں بعض ایسے بھی مصیبت زدہ ہوتے ہیں