خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 219

219 28 جماعت کی ذمہ داریاں (فرموده ۷ اگست ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : مجھے پچھلے دنوں یہ بات معلوم کر کے نہایت ہی افسوس ہوا کہ ہماری جماعت کے سیکرٹری اپنے کام کو اچھی طرح نبھا نہیں رہے اور انہوں نے سستی اختیار کرلی ہے۔متواتر یہ شکایت میرے کانوں میں پہنچ رہی ہے اور تجربہ اس بات پر شاہد ہو رہا ہے کہ کارکن بھی اور دوسرے لوگ بھی غفلت سے کام لے رہے ہیں۔بہت سے ہمارے کارکنوں میں سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ شائد ان کے نام کے ساتھ عہدہ کا لگ جانا ہی کام کرنے کی کافی ضمانت ہو گیا ہے اور وہ جماعتیں بھی جو کام میں غافل ہیں شائد اسی کو کافی سمجھتی ہیں کہ ان کے ہاں عہدہ دار مقرر ہو گئے حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ جب تک کام نہ کیا جائے عہدہ دار بھی کوئی عہدہ دار نہیں اور جماعتوں کا ان کے تقرر سے خوش ہو جانا بھی کوئی خوشی نہیں۔کیونکہ خوشی تو اس صورت میں ہو سکتی ہے۔جب کچھ کام ہو رہا ہو اور اگر کام کی طرف توجہ نہ کی جائے یا اسے بے دلی سے کیا جاتا ہو تو یہ شرمندگی کا موجب ہوتا ہے۔کام کو عمدہ طریق پر کرنے کے لئے ہم نے اسے صیغہ جات پر تقسیم کر دیا ہے اور اس کو ایک انتظام کے ماتحت لانے کی کوشش کی ہے۔اس انتظام کے ماتحت کام ہو بھی رہا ہے۔اگر یہ انتظام نہ ہوتا جو ہم نے کیا ہے۔تو پھر یہ امید ہو سکتی ہے کہ کوئی ایسا نظام مرتب کرنے کے بعد یہ کام ہوں مگر ایسا نظام مرتب ہو چکا ہے عہدہ دار مقرر ہو چکے ہیں۔لیکن کام میں غفلت ہو رہی ہے۔پس میں اپنی جماعت کے تمام دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی جماعت کے کاموں میں دلچسپی لیویں۔کیونکہ کارکن جماعت ہی سے مقرر ہوتے ہیں۔اور جماعت ہی نے یہ کام کرنے ہیں اور جب تک جماعت ان کاموں میں دلچسپی نہ لے گی اور کارکن ہوشیاری سے کام نہ کریں گے۔تو کام نہیں ہو