خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 218

218 کرے گا تو درست نہیں تصور کیا جائے گا۔اسی طرح عورت کا مہر اگر اس کی نا سمجھی کی حالت میں جب اس کو آئندہ پیش آنے والے اخراجات کا علم نہیں لے لیا جائے تو یہ ٹھیک نہیں۔ہاں اگر عورت کو مہر مل جائے۔اور اس پر چار پانچ سال ہو گئے ہوں۔یا کم از کم ایک سال تک اس کے پاس روپیہ رہ چکا ہو تو پھر اگر وہ اسے اپنے خاوند کو یا ماں باپ کو دے دے۔تو میں کہوں گا درست ہے اور پسندیدہ۔اگر کسی عورت کا مہر ایک ہزار ہو اور اسے خاوند ایک لاکھ اپنی طرف سے دے دے تو میں کہتا ہوں وہ عورت اگر گھر بار کی ضروریات اور حالات سے واقف ہونے کے بعد ایک لاکھ ایک ہزار روپیہ بھی ماں باپ کو دے دے تو میں کہوں گا اس نے بہت اچھا کیا۔لیکن اگر ماں باپ شادی کے وقت ہی لیتے ہیں تو بردہ فروشی ہے جو گناہ ہے۔لیکن جو عورت شادی کے بعد ماں باپ کی مدد کرے گی اور اپنی ضروریات کو سمجھتے ہوئے مہر کی رقم ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ماں باپ کو دے گی وہ خدا تعالیٰ کی مقبول ہو گی۔رسول کریم ﷺ کی بھی مقبول ہو گی اور وہ ماں باپ کی خدمت کا نیک نمونہ پیش کرے گی۔(الفضل یکم اگست ۱۹۲۵ء) امه ابو داؤد و ترندی بحواله تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ۳۷