خطبات محمود (جلد 9) — Page 217
217 حکیم فضل دین صاحب جو ہمارے سلسلہ میں سابقوں الاولون میں سے ہوئے ہیں۔ان کی دو بیریاں تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔مہر شرعی حکم ہے اور ضرور عورتوں کو دینا چاہیے۔اس پر حکیم صاحب نے کہا میری بیویوں نے مجھے معاف کر دیا ہوا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔کیا آپ نے ان کے ہاتھ میں رکھ کر معاف کرایا تھا۔کہنے لگے نہیں حضور یونہی کہا تھا اور انہوں نے معاف کر دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا پہلے آپ ان کی جھولی میں ڈالیں پھر ان سے معاف کرائیں (یہ بھی ادنی درجہ ہے اصل بات یہی ہے کہ مال عورت کے پاس کم از کم ایک سال رہنا چاہیے اور پھر اس عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرے تو درست ہے) ان کی بیویوں کا مہر پانچ پانچ سو روپیہ تھا حکیم صاحب نے کہیں سے قرض لے کر پانچ پانچ سو روپیہ ان کو دے دیا اور کہنے لگے تمہیں یاد ہے تم نے اپنا مہر مجھے معاف کیا ہوا ہے۔سو اب مجھے یہ واپس دیدو۔اس پر انہوں نے کہا اس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ نے دے دینا ہے اس وجہ سے کہہ دیا تھا کہ معاف کیا اب ہم نہیں دیں گی۔حکیم صاحب نے آکر یہ واقعہ حضرت صاحب کو سنایا کہ میں نے اس خیال سے کہ روپیہ مجھے واپس مل جائے گا ایک ہزار روپیہ قرض لے کر مہر دیا تھا مگر روپیہ لے کر انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت صاحب یہ سن کر بہت ہے اور فرمانے لگے درست بات یہی ہے کہ پہلے عورت کو مہر ادا کیا جائے اور کچھ عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرنا چاہے تو کر دے ورنہ دیئے بغیر معاف کرانے کی صورت میں تو ”مفت کرم داشتن" والی بات ہوتی ہے۔عورت سمجھتی ہے نہ انہوں نے مہر دیا اور نہ دیں گے چلو یہ کہتے جو ہیں معاف ہی کر دو۔مفت کا احسان ہی ہے نا۔تو جب عورت کو مہر مل جائے پھر اگر وہ خوشی سے دے تو درست ہے ورنہ دس لاکھ روپیہ بھی اگر اس کا مہر ہو۔مگر اس کو ملا نہیں تو وہ دے دیگی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میں نے جیب سے نکال کے تو کچھ دینا نہیں صرف زبانی جمع خرچ ہے۔اس میں کیا حرج ہے۔پس عورتوں سے معاف کرانے سے پہلے ان کو مہر دیا جانا ضروری ہے اور اگر یہ مرایسے وقت میں دیا جاتا ہے۔جب ان کو اپنی ضروریات کی خبر نہیں یا جب کہ والدین ان سے لینا چاہتے ہیں۔تو یہ ناجائز ہے اور بردہ فروشی ہے جو کسی طرح درست نہیں ہو سکتی۔اگر بردہ فروشی کی صورت نہ بھی ہو تو بھی ناجائز ہے کہ ایسا فعل کیا جائے جس سے عورت کو نقصان پہنچے ایسا سودا دھوکہ ہے ناجائز ہے ایک بچہ اگر اپنا مکان بیچ دے۔تو کیا یہ سودا درست ہو گا یقینا نہیں کیونکہ اس کو ابھی اپنے نفع و نقصان کا علم نہیں۔اس لئے اس حالت میں اگر وہ ایسا کام