خطبات محمود (جلد 9) — Page 215
215 یہ بھی محسوس نہ ہو گا کہ خود اس کی جان بھی تو اس کوشش میں خطرہ میں نہیں پڑ جائے گی۔پس اگر اس بات کی اجازت دی جائے۔کہ ماں باپ مہر کا روپیہ لے لیں۔تو ہزا رہا ایسی لڑکیاں ہوں گی۔جو ایسی نا مناسب جگہ بیاہی جائیں گی۔جہاں سے ان کے والدین کو تو روپیہ مل جائے گا لیکن وہ دکھ کی زندگی بسر کریں گی۔اب بھی بہت سی ایسی مثالیں مل سکتی ہیں۔جو اسی قسم کی اندھا دھند شادیوں کے متعلق ہیں اور جو لڑکی کو بیاہنے کے نہیں بلکہ بیچنے کے مترادف ہیں۔بہت لوگ روپے کا لالچ کرتے ہیں اور جہاں سے ان کو زیادہ روپیہ ملتا ہے وہاں وہ بغیر دیکھے بھالے لڑکی کا بیاہ کر دیتے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے ماں باپ دیکھے ہیں جو اپنی لڑکیوں کو گویا نیلام کرتے اور کہتے ہیں جو سب سے زیادہ روپیہ دے وہی لے جائے۔ایسے ماں باپ صرف روپیہ کو دیکھتے ہیں جس سے زیادہ روپیہ ملے اس کے ساتھ اپنی لڑکی کو بیاہ دیتے ہیں۔خواہ ان میں کسی قسم کا جوڑ اور مناسبت ہو یا نہ ہو اور بعض ماں باپ تو اس قدر ظلم کرتے ہیں کہ عمر کا لحاظ بھی نہیں کرتے چنانچہ ہندوؤں میں یہ عام رواج ہے کہ خواہ اسی برس کا بڑھا ہو۔اس کی شادی پانچ چھ سال کی لڑکی سے کر دیتے ہیں۔لیکن شادی نہیں بلکہ بردہ فروشی کی ہے اور بردہ فروشی کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔کیونکہ آزادی ہر انسان کا حق ہے اور یہ حق چھینے کا کسی کو اختیار نہیں۔ممکن ہے کوئی کہے اولاد ماں باپ کی چیز ہوتی ہے اس لئے ان کا حق ہوتا ہے۔کہ ان سے فائدہ اٹھائیں مگر یہ بھی جائز نہیں اور میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بھی نہیں پہنچ سکتا اور میرے نزدیک یہ ناجائز ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو بیچ دے۔چہ جائے کہ کوئی اور اس کی آزادی کو نیچے خواہ وہ ماں باپ ہی ہوں۔انہیں بھی اپنے بچوں کی حریت اور آزادی کے بیچنے کا حق نہیں۔لیکن ایسے ماں باپ ہیں جو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ہمارے گھر میں ہی قریب کے ایک گاؤں کی ایک عورت آیا کرتی تھی۔جو زمیندار تھی وہ خوشی سے سنایا کرتی تھی کہ ہم نے اتنے روپے پر فلاں لڑکی کو بیاہ دیا ہے اور اتنے روپے پر فلاں کو اور اس طرح قرض اتار دیا ہے ان لڑکیوں کو اتنی دور دور بیاہ دیا کہ پھر وہ کبھی نہ آسکیں۔ان حالات میں اگر اس بات کی اجازت دے دیں کہ ماں باپ لڑکیوں کا مہر لے لیا کریں تو یہ ایک بہت بڑا ظلم اور احکام الہی کی منشاء کے بالکل خلاف ہو گا اور لڑکیوں کو مصیبت اور تکلیف میں ڈالنے کی کھلی اجازت ہو گی۔اس میں شک نہیں کہ بعض دفعہ نہایت سوچ سمجھ کر ماں باپ لڑکی کی شادی کرتے ہیں۔مگر پھر بھی وہ شادی لڑکی کے لئے آرام کا باعث نہیں ہوتی۔لیکن یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اس میں ان کی