خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 179

179 ہو۔خواہ جسمانی صحت، خواہ علوم ہوں، خواہ اعمال کچھ ہو ہر ایک میں ترقی کرنے کا ایک گر ہے جس کی پابندی ضروری ہے۔وہ گر یہ ہے کہ جس چیز کے حصول کی کوشش کرنی ہو پہلے اس کی قدرو اہمیت کو سمجھا جائے۔کیونکہ جب تک اہمیت کا پورا پورا احساس نہ ہو۔اس وقت تک اس کے حصول کے لئے ایسی کوشش نہیں کی جا سکتی کہ انسان ہر رکاوٹ کو دبا سکے۔میرے نزدیک یہی ایک ایسا گر ہے جس کی طرف توجہ نہ کرنے کی وجہ سے ۹۰ فیصد لوگ اپنے مقصد میں ناکام ہوتے ہیں اور خصوصیت سے میں نے اس کا شکار مسلمانوں کو دیکھا ہے کسی نے کہا ہے۔اے روشنی طبع تو بر من بلاشدی مسلمانوں کو جو پاک تعلیم قرآن کریم نے دی تھی۔شامت اعمال کے باعث اسی کی وجہ سے وہ گمراہی میں پڑ گئے ہیں۔قرآن کریم میں ایسے اعلیٰ اصول ایسے اعلیٰ عقائد اور ایسی خوبصورت تعلیم دی گئی ہے کہ ہر مسلمان اس کے ذریعہ دیگر مذاہب پر فتح پا سکتا ہے اور جیت سکتا ہے۔مسلمانوں کو جب اس رنگ میں غلبہ حاصل ہوا تو انہوں نے اپنے اندرونی نقائص کے باعث یہ سمجھ لیا کہ ہمیں کسی اور بات کی ضرورت نہیں رہی۔اسلام کی تعلیم جو اعلی ثابت ہو گئی اور ہم نے دوسرے مذاہب کی تعلیموں پر اس کی برتری ثابت کر دی۔حالانکہ قرآن کریم اس لئے نہیں نازل ہوا تھا کہ مسلمان اس کے ذریعہ بحث میں فتح حاصل کیا کریں نہ اس لئے نازل ہوا تھا کہ مسلمان اسے بحث و مباحثہ کا ہتھیار بنائیں۔بلکہ وہ اپنے نازل ہونے کی غرض یہ بیان کرتا ہے۔کہ نبی نوع انسان کو وہ علوم عقلیہ سکھائے۔جن کی معرفت اور جن کے ذریعہ خدا تک پہنچ سکے۔ایسی ہدایات دے جن سے نفس میں پاکیزگی پیدا ہو سکے۔ایسی صمتیں بتائے جن کے ذریعہ عمل میں بشاشت پیدا ہو اور جو قلب کو ایسا پاک اور مطہر بنا دیں کہ وہ خدا کی صفات کا جلوہ گاہ اور سبط کا کام دے۔پس قرآن کے نزول کی چار غرضیں ہیں اور وہ یہ کہ (۱) عرفان کامل ہو (۲) عمل کامل ہو (۳) عقل کامل ہو۔پھر (۴) عمل کامل ہو پہلے عمل سے مراد ظاہری عمل ہے اور دوسرے سے مراد تزکیہ نفس اور طہارت۔گویا یہ دل کا عمل ہے۔جو بعد میں حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ دو قسم کی عملی ترقیاں ہوتی ہیں اور دو قسم کی ذھنی ترقیاں تو یہ ہیں (۱) عرفان کامل ہو (۲) عقل اور ذہن تسلی پائے اور عملی ترقیاں یہ ہیں (۱) اعضاء کے اعمال کامل ہوں (۲) قلب کے اعمال کامل ہوں گویا دو عقلی اور دو عملی ترقیاں ہیں ان کے متعلق میں ان لوگوں سے جو سلسلہ احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں کہتا ہوں اگر انہوں نے سلسلہ میں داخل ہو کر ان امور میں تغیر نہیں پیدا کیا ان کے حصول میں کامیابی نہیں حاصل کی۔تو قرآن کا نازل ہونا نہ ہونا ان