خطبات محمود (جلد 9) — Page 174
174 منع کر دیا ہے۔کیونکہ اس کی ایسی عادت پڑ جاتی ہے جو چھوٹ نہیں سکتی۔اور انسان کئی قسم کے گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس قسم کی عادت انسان کی آزادی کو کھو دیتی ہے۔اور دوسرے کا غلام بنا دیتی ہے۔حقہ نوشی یا سیگریٹ نوشی یہ دونوں باتیں بھی ایسی ہی ہیں۔جن کی عادت سے بڑی بڑی بد اخلاقیاں پیدا ہوتی ہیں۔ایک دفعہ ایک احمدی یہاں آئے انہیں ایسا واقعہ پیش آیا۔جس سے متاثر ہو کر کہنے لگے۔اب میں کبھی حقہ نہیں پیوں گا۔اس کی وجہ سے آج مجھے بہت ذلت اٹھانی پڑی۔ان ایام میں یہاں عام طور پر حقہ نہیں ملتا تھا۔اب تو میں دیکھتا ہوں بازاروں بلکہ گلیوں سے بھی ہمارے گھر تک حقہ کی بو جاتی ہے۔ان کو حقے کی عادت تھی وہ تلاش کرتے کرتے مرزا امام دین کے حلقے میں چلے گئے۔وہ ہمارے رشتہ دار تھے حضرت مسیح موعود کے چچا زاد بھائی تھے مگر سلسلہ کے سخت مخالف - حقے کی خاطر جب وہ احمدی وہاں جا بیٹھے۔تو مرزا امام دین نے حضرت صاحب کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور لگے ہنسی اور تمسخر کرنے وہ حقے کی خاطر سب کچھ بیٹھے سنتے رہے۔وہ کہتے ہیں اسی وقت میں نے دل میں ارادہ کر لیا کہ اب حقہ نہ پیوں گا۔اسی نے مجھے ذلیل کرایا ہے۔ان کے اندر کچھ ایمان تھا۔اس لئے وہ بچ گئے۔ورنہ کئی شخص یہاں آئے اصلاح کے واسطے مگر حقہ کے لئے اس مجلس میں گئے اور خراب ہو گئے۔حقے اور تمباکو کی عادت انسان کو نہایت پست ہمت اور دوسرے کا غلام بنا دیتی ہے۔پٹھان کشمیریوں کو حقیر جانتے ہیں۔گو ہندوستان میں ان کی ایسی حالت نہیں جیسی کشمیر میں ہے۔وہاں سے جو لوگ محنت مزدوری کے لئے آتے ہیں۔عموماً ان کو لوگ حقیر سمجھتے ہیں۔میں نے دیکھا ایک پٹھان جس کی نسوار کی ڈبیہ کہیں گر گئی تھی۔وہ نسوار کے لئے بے قرار ہو کر ایک کشمیری سے جو اس کے پاس سے گزرا بڑی لجاجت کے ساتھ کہنے لگا۔بھائی کشمیری جی تمہارے پاس نسوار ہے۔تو عادت انسان کو غلام بنا دیتی ہے اور اس کے حوصلہ کو پست کر دیتی ہے۔میری تو خدا تعالیٰ نے ایسی طبیعت بنائی ہے کہ کسی چیز کی مجھے عادت پڑتی ہی نہیں میں چائے پیتا ہوں گو مجھے عادت نہیں ہوتی تاہم میں چھوڑ بھی دیا کرتا ہوں کہ ممکن ہے کسی وقت کمزوری پیدا ہو جائے۔تو سگریٹ پینے والے اور حقہ نوش جہاں کہیں لوگوں کو تمباکو پیتے دیکھتے ہیں۔حقہ کی لالچ میں ان کے پاس جا بیٹھتے ہیں۔وہ لوگ نیک ہوں یا بد ، حقہ کی حرص ان کو وہاں کھینچ لے جاتی ہے۔ایک ہندو کا قصہ بیان کرتے ہیں۔اسے حقہ نوشی کی عادت تھی وہ کہیں جا رہا تھا۔اسے حقہ کی خواہش ہوئی ایک چوڑھے کا حقہ رکھا تھا۔وہ لے کر پینے لگ گیا حالانکہ چوڑھے کا حقہ پینا تو