خطبات محمود (جلد 9) — Page 173
173 اس قسم کا امریکہ کا ایک واقعہ ہے ایک شخص کو جو ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔نہایت خطرہ کے وقت پہرے پر مقرر کیا گیا۔جس دوسرے سپاہی نے اس کا پہرہ بدلوانا تھا وہ نہ آیا اور زیادہ دیر ہو گئی۔وہ چونکہ پہرہ دیتا تھک گیا تھا اس لئے اس نے جب ایک جگہ ٹیک لگائی تو سو گیا۔اس حالت میں افسر آگیا۔اسے گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلایا گیا۔جوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ سپاہی تھکا ہوا تھا۔جس کی وجہ سے اس کی آنکھ لگ گئی اور پہرہ بدلوانے والے نے غلطی کی مگر ایسی حالت میں اگر دشمن آجاتا ہے اور اس کو غافل پاتا تو ہزاروں جانیں ضائع ہو جاتیں۔اس لئے باوجود اس کے کہ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔اس کو گولی سے مار ڈالا گیا۔اب اس واقعہ کو اگر کوئی پیش نہ کرے اور کے اس پر بڑا ظلم ہوا سونا بھی کوئی جرم ہے خصوصاً جب کہ کوئی شخص سخت تھکا ہوا ہو تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔ہمیشہ سوال کی نوعیت کو دیکھنا چاہیے بعض سوال اخلاقی ہوتے ہیں۔جن کی نوعیت کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔کیونکہ ان کے ساتھ حالات اور واقعات بدلتے رہتے ہیں اور بعض سوال مادی ہوتے ہیں۔جن کی نوعیت کو نہیں دیکھا جاتا۔بلکہ ان کی صحت دیکھی جاتی ہے۔جتنے اخلاقی امور ہیں۔ان کو انسان چھپا سکتا ہے۔اور ان کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔لیکن بعض مادی اور ظاہری احکام ہوتے ہیں۔ان کو چھپانے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔مثلاً سر کے بال ہیں کہ ہر ایک کی نظر ان پر پڑ سکتی ہے۔بلکہ سر کے بالوں کو تو ٹوپی وغیرہ کے نیچے چھپایا بھی جا سکتا ہے۔لیکن ٹھوڑی منڈی ہوئی کو تو کوئی نہیں چھپا سکتا۔مجھے افسوس ہے کہ بعض بڑے آدمی بھی ڈاڑھی منڈواتے ہیں۔بڑے آدمی سے میری مراد بڑی عمر کے آدمی ہیں۔اگر انہیں کوئی منع کرے۔تو کہہ دیتے ہیں کیا ڈاڑھی رکھنا اسلام کے اصولوں میں سے ہے۔حالانکہ اگر وہ گھر میں بیوی سے کہیں کہ چاول پکانا یا فلاں قسم کا لباس پہننا اور پھر وہ نہ پہنے یا نہ پکائے۔اور کہہ دے کہ یہ کوئی اسلام کے اصول میں سے ہے تو اس جواب کو وہ کبھی پسند نہ کریں گے۔میں پوچھتا ہوں جس صورت میں ان کی بیوی جب یہ جواب ان کو دے۔اسے وہ سنا پسند نہیں کرتے۔تو جب اپنے اوپر بات آتی ہے۔پھر وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ کیا یہ کوئی اسلام کے اصول کی بات ہے۔پس میں ایک تو اپنے طالب علموں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ ان ظاہری احکام اور شعائر اسلام کی پوری پوری پابندی کریں۔جن کو ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے اور رائے لگا سکتا ہے۔کہ وہ شعائر اسلام کی حرمت کرتے ہیں یا ہتک۔دوسری بات جو اخلاق کی درستی کے لئے ضروری ہے اور جس سے اسلام نے اصولاً منع کر دیا ہے۔وہ یہ ہے کہ کسی نقصان رساں چیز کی عادت نہ ڈالنا چاہیے۔دیکھو شراب سے شریعت نے