خطبات محمود (جلد 9) — Page 168
168 تھا۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے اسی سال عمرہ ہونا چاہیے۔لیکن جس وقت آنحضرت ﷺ نے بال منڈوائے تو پھر سب نے اس جوش کے ساتھ بال منڈوائے کہ آپس میں کشمکش شروع ہو گئی اور ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ مجھ سے پہلے دوسرا نہ منڈوا سکے۔ہمارے طالب علموں نے بھی وہی صحابہ والا جوش اور اخلاص دکھلایا ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ انہوں نے جو بال منڈوا کر یہ اقرار کیا ہے۔کہ وہ بالوں کو ناپسند کرتے ہیں۔وہ آئندہ بھی نہایت اخلاض اور ایمانی جوش کے ساتھ اس ارادے پر پختہ اور اس کے پابند رہیں گے۔ان کو اس بات کا بھی علم ہونا چاہیے کہ محض بال کٹوا دینا ہی کوئی بڑی خوبی کی بات نہیں۔کیونکہ جس بات کو انسان پھر اختیار کر سکتا ہے اس کے لئے وقتی طور پر دل کو تسلی بھی دے لیتا ہے۔اس لئے جب تک بال کٹوانے کے ساتھ وہ ہمیشہ بال کٹوائے رکھنے کا پختہ ارادہ اور نیت نہ کر لیں۔کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ہو سکتا ہے دیکھا دیکھی انہوں نے اس وقت بال کٹوا دیئے ہوں۔لیکن جب بال پھر بڑھ جائیں تو کہہ دیا جائے اب نہیں کٹواتے۔تو دیکھا دیکھا وقتی جوش کے ماتحت بال کٹوانے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک ہمیشہ کٹوانے کی عادت نہ بنا لی جائے۔ہر ایک قوم کی ایک قومی عادت ہوتی ہے جو اس قوم کے ساتھ خصوصیت رکھتی ہے۔اور اس کو قائم تبھی رکھا جا سکتا ہے کہ تمام قوم اپنی ظاہری حالت کو اس کے مطابق بنائے رکھے۔مثلاً سکھوں میں بال رکھنا ایک قومی عادت اور قومی نشان ہے۔ہر ایک سکھ برابر بال رکھتا ہے۔میرے خیال میں گرمیوں میں سر پر بال رکھنا اتنا بڑا مجاہدہ ہے کہ ہر شخص برداشت نہیں کر سکتا۔عورتیں بھی بال رکھتی ہیں۔مگر ان کا بال رکھنا نسلا بعد نسل چلا آیا ہے اور اب ان میں یہ خصلت پیدا ہو گئی ہے۔اس لئے ان کو تکلیف کا کچھ احساس ہی نہیں ہوتا۔لیکن سکھ قوم کی یہ حالت ہے کہ اس نے یکلخت بال بڑہانے شروع کر دیئے۔اور اب صدیوں سے برابر وہ بال نہیں منڈواتے۔اس طرح کڑا پہننا بھی ان کی قومی عادت ہے اور ڈاڑھی رکھنا بھی۔سارے سکھ ڈاڑھی رکھتے ہیں۔اس قوم کا جس کے پاس کوئی شریعت نہیں ان عادات کو اپنی قومی عادات بنا لینا ان کی قومیت کو قائم رکھنے کا موجب بن گیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض ظاہری شعار انہوں نے اپنی قومیت کے قائم رکھنے کے لئے مقرر کرلئے۔اور ان کی وہ قومی طور پر پابندی کرتے ہیں۔جس سے ان کے اندر یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ وہ اپنی قومیت کی خاطر اپنے مذہب کی ایسی بیچ کرتے ہیں کہ ہر ایک قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔تو ظاہری شکلیں اور شعار کوئی بے فائدہ چیز نہیں۔بلکہ ان کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔خصوصاً جب کہ وہ قومی عادت کا رنگ اختیار کرلیں۔