خطبات محمود (جلد 9) — Page 169
169 نیس اگر ہمارے نوجوان ہمت اور جرأت کے ساتھ اسلامی شعار کی پابندی اختیار کر کے ان کی پوری پوری حفاظت کریں تو تھوڑے ہی عرصہ میں ہمارے اندر ایک خاص قومی سپرٹ پیدا ہو سکتی ہے۔پس جہاں مجھے اس بات سے خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے طلباء نے صحابہ کی طرح ایمانی جوش اور اخلاص سے اپنے بال کٹوائے ہیں۔اسی طرح مجھے امید ہے کہ وہ اس جوش اور اخلاص کو قائم رکھ کر اسلامی شعار کی پوری پوری حرمت کریں گے۔سارے سر کے بال رکھنا بھی اسلامی شعار میں سے ہے۔پس خواہ تمام سر کے بال کٹوائے جائیں یا تمام بال رکھے جائیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے بھی سر کے بال رکھے ہوئے تھے۔بہر حال ایسا ہونا چاہیے کہ ان کی صورت کو دیکھ کر ہر ایک کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ احمدی ہیں اور اسلامی شعار کے پابند ہیں۔اسی طرح نماز باجماعت کی بھی بچوں کو پختہ عادت ڈالنا چاہیے۔اور کوئی نماز باجماعت رہ جانے سے ایسا احساس ہونا چاہیے کہ گویا کوئی قیمتی چیز ان کے ہاتھ سے ضائع ہو گئی ہے۔اگر ان کے اندر نماز با جماعت رہ جانے سے افسوس اور ندامت پیدا نہ ہو تو پھر یہ عادت نہیں کہلائے گی۔یا اس کو ہم پابندی نہیں کہہ سکتے۔میں دو قسم کے لفظ بول رہا ہوں ایک عادت ہوتی ہے اور ایک پابندی۔جو دو قسم کے ایمانوں کے ماتحت ہوتی ہے۔عادت تو یہ ہے کہ انسان کو شوق نہیں ہوتا لیکن وہ اس کی عادت ڈالتا ہے اور ایک یہ کہ اس کو شوق ہوتا ہے اور شوق سے اس کی پابندی کرتا ہے۔پس خواہ کسی کو پوری عادت ہو جائے یا پوری پابندی اختیار کرے۔دونوں صورتوں میں نماز باجماعت کے ہ جانے سے افسوس کرے گا اور غم کھائے گا۔خواہ بیماری کی وجہ سے ہی کیوں نہ رہ جائے اور میں اپنے ان طالب علموں سے صرف یہی امید نہیں رکھتا کہ وہ خود نماز با جماعت کی پکی عادت یا پابندی اختیار کریں گے بلکہ میں یہ بھی امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی جو ان کے زیر اثر ہیں نماز با جماعت کا عادی بنائیں گے بلکہ اپنے حلقہ اثر کو اور بھی زیادہ وسیع کریں گے تاکہ کوئی ان کے مقابلہ کی جرأت ہی نہ کر سکے۔اور ان کے ملنے والے ان کا نمونہ اختیار کرنے کے لئے مجبور ہو جائیں اور وہ سمجھ لیں کہ ان سے ملے رہنے کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ ان جیسے بنیں۔اس طریق سے مل کر بیٹھنے والے تعلقات رکھنے والے تو کم از کم شعار اسلام کی پابندی کے لئے مجبور ہوں گے۔ان کی مجبوری ایسی نہیں ہوگی جو سختی اور تشدد کا نتیجہ ہو۔بلکہ انسان میں یہ فطرتی بات ہے کہ جو کچھ وہ دوسروں کو کرتے دیکھتا ہے۔اس کے دل میں بھی اس کا احساس ہوتا ہے۔آج سے پہلے