خطبات محمود (جلد 9) — Page 159
159 اس چیز کو چھپا لیا ورنہ بچے کو اس سے نقصان پہنچتا۔مگر وہ ایک نقصان سے بچا کر بچہ کو دوسرا نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔خواہ والدین کے نزدیک حالات کچھ ہی ہوں۔چونکہ بچے کی نگاہ ان حالات پر نہیں پڑتی اس لئے وہ ماں باپ کی اس کارروائی سے یہ سبق حاصل کرتا ہے کہ کسی چیز کے چھپانے کے لئے اس طرح جھوٹ بھی بولا جاتا ہے۔کیونکہ جس وقت ماں باپ ایک کام کر کے بچے کے سامنے اس سے انکار کرتے یا ادھر ادھر کی باتیں کر کے اس کو چھپانا چاہتے ہیں۔تو وہ خوب سمجھ رہا ہوتا ہے۔اور چونکہ بچہ حساس اور ذکی ہوتا ہے اور وہ ماں باپ کا ایک اعلیٰ درجہ کا شاگرد ہوتا ہے۔اس لئے وہ یہ سبق حاصل کرتا ہے کہ کسی وقت اگر ضرورت پیش آئے اور وہ بھی ایک چیز کے چھپانے کے لئے اپنا طریق بدل ڈالے تو حرج نہیں۔کیونکہ وہ دیکھتا ہے میرے ماں باپ ایسا ہی کرتے ہیں۔پس پہلی غلطی اولاد کی تربیت میں جو والدین سے سرزد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ گو وہ دل سے چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو نقص اور عیب سے بچائیں۔مگر خود پوری پوری احتیاط نہیں کرتے اور اپنا نمونہ اور عمل ان کے سامنے اچھا پیش نہیں کرتے۔جس کی وجہ سے وہ خود ہی بچوں کو جھوٹ سکھانے کے موجب ہو جاتے ہیں۔مثلا بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ والدین کوئی چیز گھر میں لاتے ہیں۔بچہ بیمار ہوتا ہے اس کو کھلانے میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے جب وہ مانگتا ہے تو کہہ دیتے ہیں وہ چیز تو گھر میں آئی ہی نہیں۔حالانکہ بچے کو اس کی خبر ہو چکی ہوتی ہے۔گو وہ اپنے ذہن میں سمجھ لیں کہ ہم نے جھوٹ نہیں بولا کیونکہ بچہ کا فائدہ کر رہے ہیں۔مگر اس میں کیا شک ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور وہ در پردہ بچے کو جھوٹ کی تعلیم دے رہے ہوتے ہیں۔یا پھر بعض دفعہ وہ انکار تو نہیں کرتے مگر یہ کہہ دیتے ہیں ہم نے وہ چیز کھالی ہے۔حالانکہ بچہ خوب جانتا ہے کہ انہوں نے ابھی کھائی نہیں۔یا کہہ دیتے ہیں وہ چیز تو کوئی اٹھالے گیا یا ضائع ہو گئی۔حالانکہ بچہ جانتا ہے کہ نہ کوئی اٹھا لے گیا اور نہ وہ ضائع ہوئی وہ چیز واقع میں آئی اور والدین نے اس سے چھپ کر کھائی۔جسے اس نے چلمن کے پیچھے سے دیکھا ہوتا ہے۔اس طرح وہ ماں باپ سے جھوٹ بولنے کا سبق سیکھتا ہے اور اس کے دل میں اس عیب کی کوئی اہمیت نہیں رہتی اور جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خواہ زبانی میرے ماں باپ مجھے منع کرتے ہیں مگر موقع پر وہ خود بھی جھوٹ بول لیتے ہیں اس لئے یہ کوئی بری بات نہیں۔اس طرح ایک اور عیب چوری ہے۔میرے نزدیک چوری جھوٹ سے بھی زیادہ