خطبات محمود (جلد 9) — Page 143
143 کرنا چاہیے۔یعنی جو بات ایک عقل کہتی ہے وہی ساٹھ ستریا سو عقلیں کہتی ہوں۔لیکن ایسا نہیں ہوتا۔عقلوں کے فیصلہ میں اختلاف ہوتا ہے۔اس پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عقل تو دوسروں کی بھی وہی کہتی ہے جو اس کی کہتی ہے۔لیکن وہ دھوکہ اور فریب کی راہ سے اس کے خلاف کہتے ہیں۔کیونکہ روز مرہ کے واقعات اس امر کی تردید کرتے ہیں۔اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ عقل اکثر غلطی کرتی اور ٹھوکریں کھاتی ہے۔پس جب عقل غلطی کرتی ہے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایک عقل ساٹھ یا ستر عقلوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ورنہ پھر یہ کہا جائے گا کہ سو آدمی جو ایک آدمی کی عقل کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں وہ پاگل ہو گئے ہیں۔اور ان کی عقلیں ماری گئی ہیں۔لیکن چونکہ یہ بات بھی غلط ہے۔اس لئے یہ بھی صحیح نہیں کہ ہم نے اپنی عقل سے جو فیصلہ دیا وہ صحیح ہے۔لیکن دوسرے ساٹھ یا ستر آدمیوں نے جو فیصلہ دیا ہے۔انہوں نے بیوقوفی کی ہے۔جب کہ عقل غلطی کر سکتی ہے اور کرتی ہے تو پھر ایک کی عقل کے مقابلہ میں ساٹھ یا ستر آدمیوں کی عقلیں سچائی اور صحت کے دریافت کرنے کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔یہ ممکن ہے کہ ساٹھ یا ستر آدمیوں کی عقلیں بھی غلطی کر جائیں۔مگر بالعموم جب وہ بے غرض ہو کر کسی معاملہ کے متعلق سوچیں گے تو اس کا پیشتر حصہ ایسا ہو گا جو صحیح اور درست ہو گا۔پس اگر انسان یہ ارادہ کر لے کہ وہ بہتوں کی عقلوں کے استدلال کا نتیجہ قبول کرلے گا تو وہ عموماً صحیح نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔ورنہ اگر وہ اپنی واحد عقل کو بہتوں کی عقل پر ترجیح دے گا اور ان کو غلطی پر قرار دے کر ان کے فیصلہ کو رد کر دے گا تو وہ کبھی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے گا۔میرے نزدیک اخلاقی تباہی کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے۔کہ جب کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے وہ ذاتی فوائد کو مد نظر رکھ کر دوسروں کے فیصلہ کے متعلق یہ کہ دیتا ہے کہ میری عقل میں یہ بات نہیں آتی اس لئے میں نہیں مانتا۔دنیا میں مختلف معیار سچائی کے پر کھنے کے لئے ہوتے ہیں۔دین میں معیار تو یہ ہے کہ جو بات ہماری عقل میں نہیں آتی ہم اس کے ماننے کے لئے مجبور نہیں۔اگر کوئی بات دین کی ہماری سمجھ میں نہیں آتی تو خدا تعالیٰ ہمیں معذور قرار دے گا۔ہاں اگر ایک دین کی صداقت کسی کی عقل اور سمجھ میں آگئی ہے مگر وہ اس لئے اسے قبول نہیں کرتا کہ دوسرے لوگ یوں کہتے ہیں تو وہ شخص قابل مواخذہ ہو گا۔وہ شخص قابل مواخذہ نہیں ہو گا جس نے نیک نیتی کے ساتھ ایک مذہب کو سمجھنے کی کوشش کی مگر اس کی صداقت اس کی سمجھ میں نہ آئی۔لیکن جب کوئی مذہب قبول کر لیتا ہے تو تفصیل شریعت میں پھر یہ بات جاری ہو جائے گی کہ کسی امر