خطبات محمود (جلد 9) — Page 123
123 پہنچ جاتا ہے۔پس جو بات زندگی کے تمام شعبوں میں پائی جاتی ہے وہی تبلیغ میں بھی پائی جاتی ہے۔کیونکہ اگر ہم تبلیغ کی پریکٹس اور مشق نہ رکھتے ہوں اور ہمارا یہ خیال ہو کہ ہم بغیر پریکٹس اور بغیر مشق کے جس طرح چاہیں تبلیغ کر لیں گے تو کبھی تبلیغ نتیجہ خیز نہ ہوگی۔باوجود اس کے کہ دنیا کے اندر آج کئی کروڑ مسلمان آباد ہیں۔لیکن پھر بھی ان میں سے بہت تھوڑے ایسے ملیں گے جو تبلیغ کو اپنا فرض خیال کرتے ہوں۔یا تبلیغ کرنے کی ضرورت سمجھتے ہوں۔وہ بڑے مزے کی نیند سو رہے ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔بلکہ وہ عیسائی پادریوں کے اس قسم کے غلط اور بے بنیاد اعلانات کے باعث کہ اسلام دنیا کے مختلف حصوں میں ترقی کر رہا ہے بہت خوش ہوتے اور پہلے سے بھی زیادہ سست ہوتے جا رہے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ عیسائی ان کو غفلت میں ڈالنا چاہتے ہیں اور اسی لئے وہ اس قسم کے اعلانات وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔غالبا 19ء کی بات ہے کہ عیسائی پادریوں کی طرف سے ایک رپورٹ بڑے زور شور کے ساتھ شائع ہوئی تھی کہ یوگنڈا کے علاقہ مشرقی افریقہ میں اسلام بہت زور کے ساتھ پھیل رہا ہے اور عیسائیت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اس بناء پر عیسائیوں سے کہا گیا تھا کہ چندہ دیں اور نوجوان اپنے آپ کو وہاں تبلیغ کے لئے جانے کے واسطے پیش کریں۔اور گورنمنٹ سے بھی درخواست کی گئی تھی کہ وہ ان کی مدد کرے۔تمام مسلمان تو اس رپورٹ کی بناء پر بڑے خوش ہو رہے تھے لیکن میں نے جب اس رپورٹ کو پڑھا تو فوراً سمجھ گیا کہ یہ دھوکا اور قریب ہے اور عیسائی پادریوں نے ایسی رپورٹ اس لئے شائع کی ہے تا مسلمان غافل ہو جائیں۔اور اس طرح ان کو عیسائیت پھیلانے کا زیادہ موقع ملے۔اور گورنمنٹ کو مدد دینے کے لئے جو کہا گیا تھا اس کے متعلق بھی میں نے سمجھا کہ یہ بھی چالا کی ہے۔تاکہ ایک طرف تو مسلمان یہ خیال کر کے خوش ہو جائیں کہ عیسائیوں کی ایسی نازک حالت ہو گئی ہے کہ انہیں گورنمنٹ سے امداد کی درخواست کرنی پڑی اور دوسری طرف گورنمنٹ کو بھی امداد دینے کا ایک بہانہ مل جائے۔اس وقت جب مسلمان پادریوں کی اس رپورٹ کی بناء پر خوش ہو رہے تھے میں نے اپنے دوستوں کو جو یوگنڈا اور مشرقی افریقہ میں رہتے تھے خط لکھا کہ وہ وہاں کے پورے اور صحیح حالات سے اطلاع دیں۔تا معلوم ہو سکے کہ یہ رپورٹ کہاں تک درست اور صداقت پر مبنی ہے۔اس پر انہوں نے لکھا کہ یوگنڈا کے قریباً تمام کے تمام امیر اور رؤساء عیسائی ہو چکے ہیں۔اور جو عیسائی نہیں ہوئے