خطبات محمود (جلد 9) — Page 387
387 کو مد نظر رکھیں کہ خدا کی طرف سے ہی روشنی آتی ہے اور جب تک اس کی طرف سے روشنی نہ آئے۔تب تک نہ ہمارا علم کام دے سکتا ہے۔نہ ہماری عقل کام دے سکتی ہے اور نہ ہی ہماری کوئی اور طاقت کسی کام کو سنوار سکتی ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے موقعوں پر خدا کے ہی آگے گڑ گڑانا چاہئے کہ وہ روشنی عطا فرمائے۔ہم اس معالمہ میں قرآن پر بھی تو کل نہیں کر سکتے۔کیونکہ صرف قرآن کا ہونا اس بات کے واسطے کافی نہیں ہو سکتا۔بیشک وہ ہادی ہے مگر ان کے لئے جو اس سے ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔دیا نند جی ساری عمر قرآن پر اعتراض ہی کرتے رہے۔اور انہیں اس میں ایک بات بھی ایسی نظر نہ آئی۔جو ہدایت دے سکتی ہو۔پس قرآن ہدایت تو کرتا ہے مگر ان کو جو صراط المستقیم پر چلنے کی کوشش کریں۔پکڑ کر لوگوں کو اس راہ پر چلانا اس کا کام نہیں۔یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ قرآن نازل ہو گیا۔مگر پھر بھی کہا جاتا ہے کہو اھدنا الصراط المستقیم - باوجود صحبت صالحین میسر ہونے کے پھر بھی کہا جاتا ہے۔کہو اهدنا الصراط المستقيم - باوجود سلسلہ مجددین کے پھر بھی کہا جاتا ہے کہو اهدنا الصراط المستقيم باوجود ایماندار ہونے کے کہا جاتا ہے۔کہو اھدنا الصراط المستقيم با وجود حضرت نبی کریم دنیا میں مبعوث ہو گئے مگر پھر بھی کہا جاتا ہے۔کہو اھدنا الصراط المستقيم باوجود آنحضرت خاتم النسین بن گئے۔مگر پھر بھی کہا جاتا ہے۔کمو اهدنا الصراط المستقیم اور جبکہ بڑے سے بڑے مقام پر پہنچ کر بھی ایک شخص کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ آگے کیا ہے اور کس طرح آگے پہنچا جائے تو اس صورت میں سوائے اس کے چارہ ہی کیا ہے کہ خدا ہی سے مدد مانگی اور اسی کے آگے گریہ وزاری کی جائے کہ تو آپ ہی ہمیں صراط المستقیم کی ہدایت فرما۔پس جب تک خدا کی طرف سے ہدایت نہ آئے کوئی شخص خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے مقام پر ہی کیوں نہ کھڑا ہو۔ایک قدم بھی آگے نہیں اٹھا سکتا اور نہ ہی کوئی اور شے بجز خدا کی ذات کے اس کی مدد اور رہنمائی کر سکتی ہے۔پس ہر حال میں انسان کو چاہئے کہ وہ خدا ہی سے رہنمائی طلب کرے اور اسی سے مانگے اور کبھی بھی غرور نہ کرے۔کہ میں نے فلاں بات کو پا لیا بلکہ جو کچھ ملا اس کو پا کر بھی تذلل و انکساری کو اختیار کرے اور ہر وقت صراط المستقیم کی ہدایت کے لئے گریہ وزاری کرتا رہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کو اور خصوصاً علماء اور مبلغین کو چاہئے کہ ہمیشہ خدا پر سہارا رکھیں اور اس کی مدد چاہتے رہیں اور اس سے صراط المستقیم کی ہدایت طلب کرتے رہیں۔کبھی اپنے علم۔اپنی عقل اور اپنی طاقت پر گھمنڈو غرور نہ کریں۔کیونکہ نہ علم کچھ کر سکتا۔ہے