خطبات محمود (جلد 9) — Page 383
383 کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔دنیا میں یہ طریق ہے کہ اگر کسی سے کچھ کام کرانا ہوتا ہے۔تو اس کی پیاری چیز سے پیار کیا جاتا ہے۔کسی عورت سے اگر کوئی کام کرانا ہو تو اس کے بچہ کو پیار کرو۔اگر ایک باپ سے کوئی کام کروانا ہو تو اس کے بچے سے محبت کرو۔پھر دیکھو وہ کیسا مہربان ہوتا ہے۔فقیر بھی جب خیرات لینے کے لئے دروازہ پر جاتا ہے تو یہ صدا کرتا ہے۔”مائی تیرے بچے جیئیں“۔کیونکہ فقیر بھی جانتے ہیں کہ اس صدا کا ماں پر بہت اثر ہوتا ہے۔جب ماں یہ آواز سنتی ہے۔تو دوڑی آتی ہے اور فقیر کو خیرات دیتی ہے۔دیکھو اس آواز کو سنتے ہی جو اس کے پیارے بچے کے لئے ایک دعا ہوتی ہے وہ کس طرح دوڑی آتی ہے۔اسی طرح درود پڑھنے والے شخص کے متعلق جب خدا دیکھتا ہے کہ اس نے اس کے پیارے کے لئے دعا کی تو کہتا ہے تو نے میرے پیارے کے لئے دعا کی آ۔میں تیری دعا بھی قبول کرتا ہوں۔پس جو شخص کثرت سے درود پڑھتا ہے۔وہ نہ صرف آنحضرت کے احسانوں کا اقرار کرتا ہے۔بلکہ اپنی دعائیں بھی قبول کرواتا ہے۔ہمیں چاہئے کہ کثرت سے آنحضرت ﷺ پر درود پڑھیں اور اس درود میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی شامل کریں۔ہم مسجدوں میں جب آئیں۔تب بھی درود پڑھیں اور گھروں میں جب جائیں تب بھی آنحضرت ﷺ پر درود پڑھیں۔خدا تعالیٰ ہم سب کو اپنی کامل فرمانبرداری کی توفیق دے اور اپنا جلال ہمارے قلوب پر نازل فرمائے۔اس کے قرب کے دروازے ہم پر کھولے جائیں اور ہم تسبیح و تحمید استغفار اور درود پڑھنے والے بہنیں اور اپنی زندگی کی غرض کو پالیں۔خدا ہمارے کاموں میں برکت ڈالے اور ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم اس کے نور کو اپنے اندر جذب کریں اور دن بدن اور نور اور نئی برکات کو جذب کریں الله آمین (الفضل ۱۱ دسمبر ۱۹۲۵ء)