خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 357

357 جبر نہیں ہونا چاہئے کو پہلے یہی خیال کیا جاتا تھا کہ جبراً مسلمان بنا لینا بھی جائز ہے۔مگر اب تو اس بات کے مولوی بھی قائل نہیں کہ غیر مسلم کو تلوار سے مسلمان بنانا جائز ہے پس جب یہ جائز نہیں تو مقبروں اور آثار کو شرک کا باعث سمجھ کر جبرا گرانا بھی درست نہیں۔اگر یہ جائز ہے کہ اسلامی ممالک میں عیسائی گرجے بنائیں اور دوسرے لوگ اپنے معبد قائم کریں تو کیا وجہ ہے کہ مسلمان اگر مسجدیں بنائیں یا ایسی یادگاریں قائم رکھیں۔جو عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے کام آئیں تو وہ نا جائز ہوں پس جب کہ دوسرے یہ کام کر سکتے ہیں تو مسلمانوں کا تو یہ زیادہ حق ہے کہ وہ اسلامی ممالک میں اپنی عبادت گاہیں قائم کریں اور ان چیزوں کی حفاظت کریں جن کا احترام ان کے لئے ضروری ہے۔ہاں یہ ضروری بات ہے کہ اس بات کو دیکھا جائے کہ وہ احترام کرتے کرتے کہیں شرک کرنا نہ شروع کر دیں۔اس سے انہیں روکا جائے مگر دلائل کے ساتھ۔نہ کہ جبر کے ساتھ۔اگر کہیں ایسا خطرہ پیدا ہو جائے اور لوگ شرک میں پھنس گئے ہوں۔تو ان پر تشدد اور زبردستی پھر بھی درست نہیں۔بلکہ بجائے تشدد اور زبردستی کے دلائل اور براہین کا ہتھیار استعمال کرنا چاہئے اگر نجدی ایسا کریں تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔اگر وہ دلائل سے ایسے لوگوں کا مقابلہ کریں اور براہین سے ان کو شرک سے بچانے کی کوشش کریں جو مقبروں وغیرہ پر شرک کرتے ہیں تو یہ کام ہم بھی ان کے دوش بدوش مل کر کرنے کے لئے تیار ہیں۔اگر وہ ایسا کریں تو ہم ان کی مدد پر ہیں اور ہر وقت ان کی د کریں گے۔ہم جانتے ہیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں شرک ہوتا ہے اور ان ہر دو مقدس مقامات کو شرک سے پاک کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے مگر یہ فرض صرف دلائل اور براہین ہی سے بجا لانا چاہئے۔نہ کہ زور اور تشدد سے۔انہیں ایسی تعلیم دینی چاہئے کہ وہ شرک سے نفرت کرنے لگ جائیں اور یہ تعلیم صرف دلائل ہی سے ہو سکتی ہے۔اگر ایسا کیا جائے تو میں پھر کہتا ہوں کہ ایسا کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔پس جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ دلائل سے توحید کی خوبیاں ان کے دلوں میں بٹھاؤ تاکہ وہ آپ ہی آپ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں۔وہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ نجدی اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں سختی تو نہیں کر رہے۔اگر سختی کرتے ہوں اور جیسا کہ واقعات بتلاتے ہیں کہ نجدیوں نے طائف اور مکہ میں سختی کی تو میں زور کے ساتھ کہتا ہوں کہ ایسا نہ کریں اور یہ میں اسلام کی خاطر اور نجدیوں کے فائدہ کے لئے کہتا ہوں۔کیونکہ سختی سے اسلام کی عزت پر حرف آتا ہے اور اسلام کے متعلق جو یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ دلائل کے زور سے پھیلا اور اپنی عمدہ تعلیم کے سبب اس نے دنیا مدد