خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 338

338 کے لئے کوئی نہ اٹھے۔خود فرانس میں اس واقعہ کے متعلق جوش پیدا ہو رہا ہے اور وہاں کے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم اتنا بڑا ظلم کر کے مہذب قوموں میں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے لیکن دوسری سلطنتوں نے اس کے متعلق بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔اس سے ایشیائی باشندوں میں جو پہلے ہی احساس ہے کہ اہل یورپ کے نزدیک ہماری جانوں کی کوئی وقعت نہیں اس میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا اور ان کا خیال یقین تک پہنچ جائے گا کہ یورپ کو ہماری جانوں کا کوئی خیال نہیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خطرہ جسے ایشیائی خطرہ کہا جاتا ہے۔فی الواقعہ خطرناک صورت اختیار کرلے گا۔پس ہمیں یورپین قوموں کو مشورہ دینا چاہئے کہ وہ ایسے موقع پر سوچ سمجھ کر کارروائی کریں۔نہ کہ جوش اور غضب میں بھر کر یا اپنی طاقت کے گھمنڈ میں آکر انسانوں کی تباہی پر اتر آئیں اور خصوصاً گورنمنٹ انگلشیہ کو مشورہ دینا چاہئے کہ وہ ایسے کاموں میں دخل دے کر ان لوگوں کو جو ظلم پر کمر بستہ ہوں سمجھائے اور ظلم سے روکے اور اس موقع پر بھی اسے چاہئے کہ فرانس نے جو دمشق پر تباہی برپا کی ہے اس کے متعلق اپنی ناراضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرے اور مظلوموں کے ساتھ ہمدردی پر آمادہ کرے اور خود بھی مظلوموں سے ہمدردی کرے۔اب میں اللہ تعالٰی سے یہ دعا کرتے ہوئے اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کو اس پیشگوئی کی صداقت اور اس پیشگوئی کے کرنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔میں ان لوگوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جنہوں نے قوم کی حریت اور آزادی کے لئے کوشش کی اور اس کے لئے مارے گئے۔پھر میں ان لوگوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جو زندہ ہیں اور اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ تباہی سے بچیں اور کامیاب ہوں۔چونکہ سب سے ہمدردی ہمارا فرض ہے۔اس لئے میں اہل یورپ کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے تا وہ عدل کریں اور ظلم سے بچیں اور بجائے اس کے کہ وہ آزادی اور حریت کا خون کریں۔اس کو قائم کرنے والے بنیں۔ایسے موقع پر میں اپنی جماعت کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا اس کو بھی ترقی عطا فرمائے اور جبکہ خدا تعالیٰ نے ایسا عظیم الشان نشان دکھایا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اور بھی زیادہ لوگوں کو احمدیت کی طرف متوجہ کرنے والی۔خدا کی رحمت کو پانے والی اور اس کے عذاب سے ڈرنے والی بنے۔پھر اس کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے اور اس