خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 320

i 320 قربان نہیں کرتا۔وہ اپنے مال کو دین کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔وہ ان مختلف محبتوں کو قطع نہیں کرتا۔جو اس محبت کی حفاظت اور قیام کے لئے جو خدا کی محبت کہلاتی ہے۔اس میں پیدا کی گئی تھیں۔وہ ان بڑے بڑے درختوں کو اکھیڑتا نہیں۔جو دوسری چیزوں کی محبتوں کے اس کے اندر پیدا ہو گئے اور اس پودے کی حفاظت اور نشوونما کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا جو خدا کی محبت کا پودا ہوتا ہے۔پھر خدا کی محبت پیدا ہو تو کس طرح خدا کی محبت اس طرح پیدا نہیں ہوتی کہ انسان اپنی پیاری اور محبوب چیزوں کو قربان نہ کرے۔بلکہ اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ اس ایک محبت کے لئے وہ سب کچھ ترک کر دے۔اس کے لئے جن محبتوں کو نکالنے کی ضرورت ہو ان کو دل سے نکال دے اور جن پیاری چیزوں کو دین کی راہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہو۔انہیں خرچ کر دے۔ایسے لوگ شکایت تو کرتے ہیں کہ خدا کی محبت دلوں میں پیدا نہیں ہوتی مگر ان کی شکایت بالکل بے جا ہوتی ہے کیونکہ وہ ان باتوں پر عمل نہیں کرتے جو محبت پیدا کرنے والی ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ خدا کی محبت پیدا نہیں ہوتی۔ان کی شکایت درست تب ہو۔جب وہ ان کاموں کو کریں۔جو محبت الہی پیدا کرنے والے ہیں۔اور پھر خدا کی محبت ان میں پیدا نہ ہو۔ایسے آدمی بھی ہیں جو خدا کی محبت کے متلاشی ہیں اور جو اس " بر " کو پانا چاہتے ہیں۔جس پر پہنچ کر ایک انسان نیکیوں ہی نیکیوں میں گھر جاتا ہے۔میں ایسے لوگوں کو مخاطب کرتا ہوں کہ خدا کی محبت کو پانے اور مقام "بر" تک پہنچنے کے واسطے تمہارے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ تم ہر اس چیز کو جو خدا کی محبت کے رستہ میں روک ہوتی ہو راہ سے کاٹ دو اور اس مال کو جو اپنی محبت کے سبب خدا کی محبت سے رکھینچتا ہے قربان کر دو۔اگر تم ایسا کر سکو تو پھر تمہارے ”بر " حاصل کرنے میں کوئی شبہ نہیں رور ہو سکتا۔ہماری جماعت میں ہر جگہ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو مال کو قربان کر کے خدا کی محبت کو پاتے اور مقام ”بر " تک پہنچنے کے لئے تڑپ رکھتے ہیں۔پس میں ان کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ کارکنوں کی مدد ایسے طور پر کریں کہ نومبر کے اندر ہی اندر جلسہ کا تمام ضروری سامان مہیا ہو جائے اور دیر نہ لگے کیونکہ دیر لگنے کی صورت میں تکلیف کے سوا نقصان بھی ہے۔جہاں میں باہر کی جماعتوں کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ وہ جلد از جلد جلسے کے لئے ضروری چیزیں ہم پہنچائیں۔وہاں میں قادیان کی جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی اپنے فرض کو پہچانے۔اس کی حیثیت ایک میزبان کی ہے اور میزبان مہمان کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔